உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دلی میں 40 سرکاری خدمات کی فراہمی گھر تک، دینے ہوں گے صرف 50 روپے زائد

    دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال: فائل فوٹو۔

    دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال: فائل فوٹو۔

    دلی حکومت کا دعوی ہے کہ عوام کو ایسی سہولت دنیا کے کسی بھی ملک میں پہلی بار مل رہی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      آج یعنی 10 ستمبر سے دارالحکومت دلی میں 40 سرکاری خدمات کی ہوم ڈلیوری شروع ہو چکی ہے۔ دلی حکومت کا دعوی ہے کہ عوام کو ایسی سہولت دنیا کے کسی بھی ملک میں پہلی بار مل رہی ہے۔ ان خدمات میں ذات سرٹیفکیٹ بنوانا، شادی کا رجسٹریشن، اولڈ ایج پنشن، ڈرائیونگ لائسنس میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی اور لال ڈورا کارڈ بنوانے جیسی سہولتیں شامل ہیں۔

      یہ سروس لوگوں کو نجی کمپنی کے ذریعہ فراہم کی جائے گی اور گھر پر خدمات حاصل کرنے کے لئے لوگوں کو 50 روپے ادا کرنے پڑیں گے۔ اگر کسی کو یہ شرط منظور نہیں ہے تو وہ اب تک چلے آ رہے پراسیس کے تحت سرکاری کیندر جا کر بھی خدمات حاصل کر سکتا ہے۔

      اس سروس کی ذمہ داری ٹینڈر کے ذریعہ اسی کمپنی کو دی گئی ہے جو پاسپورٹ سیوا کیندر چلاتی ہے۔ دلی حکومت کو امید ہے کہ کمپنی کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے لوگ اس سروس سے مطمئن ہوں گے۔ تاہم، حکومت نے کسی بھی پریشانی یا بدعنوانی کی شکایت کے لئے بھی التزام رکھا ہے۔ کیجریوال حکومت کا کہنا ہے کہ دلی میں ان چالیس خدمات کا استعمال ہر سال 25 لاکھ افراد کرتے ہیں۔

      اب ایک کال پر آپ کے گھر پہنچیں گی یہ سہولتیں

      'ڈور اسٹیپ ڈلیوری منصوبہ میں آپ کے گھر کے دروازے پر موبائل-اسسٹنٹ آئے گا اور فیس، کاغذات کے علاوہ مشین سے فنگر پرنٹس لینے کی سہولت گھر پر مہیا کرائی جائے گی۔

      حکومت کا دعوی ہے کہ سروسز دینے کے لئے گھر پر جانے والا موبائل-اسسٹنٹ عوام کی سہولت کے مطابق مقرر وقت اور تاریخ پر ہی پہنچے گا۔ ساتھ ہی اس سے سرکاری دفاتر کے چکر لگانے سے نجات ملے گی اور عوام کو بچولیوں سے بھی چھٹکارا ملے گا۔  ڈور اسٹیپ ڈلیوری کے معاملے پر دہلی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کے درمیان طویل عرصے تک کھینچ تان چلی۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دلی حکومت ایسے فیصلے کرنے کے لئے آزاد اور اہل ہے۔
      First published: