உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی حج ہاوس : گزشتہ 13 سالوں میں مختص پلاٹ میں ایک اینٹ بھی نہیں رکھی گئی، پھر بھی کیوں ہورہا تنازع ، جانئے وجہ

    دہلی حج ہاوس : گزشتہ 13 سالوں میں مختص پلاٹ میں ایک اینٹ بھی نہیں رکھی گئی، پھر بھی کیوں ہورہا تنازع ، جانئے اصل وجہ

    دہلی حج ہاوس : گزشتہ 13 سالوں میں مختص پلاٹ میں ایک اینٹ بھی نہیں رکھی گئی، پھر بھی کیوں ہورہا تنازع ، جانئے اصل وجہ

    Delhi Hajj House Controversy : بی جے پی دہلی کے صدر آدیش گپتا نے بھی احتجاج میں پہنچ کر اپنی حمایت کا اعلان کیا۔احتجاج میں شامل بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی ستیہ پرکاش رانا نے کہا کہ اس علاقے میں اسپتال اسکول کالج بھی بنایا جاسکتا ہے ۔

    • Share this:
    نئی دہلی : دہلی کے دوارکا علاقہ کے سیکٹر 22 سے حج ہاؤس کے خلاف احتجاج کی آوازیں بلند ہورہی  ہیں ۔ یہاں پر کئی مرتبہ احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں اور جے شری رام کے نعرے گونج رہے ہیں ۔ حالانکہ تیرہ سال قبل حج ہاؤس کے لیے جس پلاٹ کو مخصوص کیا گیا تھا ، اس میں کوئی تعمیراتی سرگرمی نہیں ہوئی ہے ، اس کے باوجود  اس علاقہ اور آس پاس کے علاقہ میں حج ہاؤس کے پروجیکٹ کے خلاف ناراضگی اور مخالفت بہت شدید طور پر موجود ہے ۔ دو دن قبل  حج ہاؤس پلاٹ کے سامنے ہندو تنظیموں کے احتجاج میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے ۔ سیاسی فوائد اور نقصانات کو دیکھتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی بھی اس مہم میں شامل ہوگئی ہے  ۔ بی جے پی دہلی کے صدر آدیش گپتا نے بھی احتجاج میں پہنچ کر اپنی حمایت کا اعلان کیا ۔

    احتجاج میں شامل بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی ستیہ پرکاش رانا نے کہا کہ اس علاقہ میں اسپتال ، اسکول ، کالج بھی بنایا جا سکتا ہے ۔ لیکن صرف حج ہاؤس کیوں بنایا جا رہا ہے ، یہاں کوئی مسلمان آبادی نہیں ہے ، گرلز کالج قریب ہی بنایا جائے گا ، اس لیے ہوائی اڈے کے اردگرد بہت سی جگہیں ہیں ، جہاں حج ہاؤس بنایا جا سکتا ہے ، ہم حج ہاؤس نہیں بننے دیں گے ۔ دہلی حکومت چاہتی ہے کہ 100 کروڑ روپے سے حج ہاؤس بنایا جائے۔ آخر اسپتال اور کالج اسکول کیوں نہیں بنایا جا سکتا؟ ۔

    تیرہ سالوں میں حج ہاؤس کے پلاٹ میں ایک اینٹ بھی نہیں لگی

    پچھلے 13 سالوں سے حج ہاؤس کے لیے مختص 5000 مربع میٹر کا پلاٹ خالی پڑا ہے ۔ باؤنڈری وال بھی منہدم ہوچکی ہے ۔ درحقیقت دہلی کی سابق وزیراعلیٰ شیلا دکشت نے 2008 میں کثیر فنکشنل حج ہاؤس بنانے کا اعلان کیا تھا ۔ دوارکا کے علاقہ میں 7 جولائی 2008 کو شیلا دکشت نے حج ہاؤس کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا تھا ، جس کا پتھر وہاں ہی ٹوٹا ہوا پڑا ہے ، جس کو کو سنگ بنیاد کے لئے بنائی گئی دیوار سے اکھاڑ کر توڑ دیا گیا ہے ۔ آج بھی یہ سیاہ رنگ کا پتھر شیلا دکشت کی کوششوں کو بتا رہا ہے ۔ مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ تنازع بھی پرانا ہے۔ دوسری طرف مٹیا محل کے ایم ایل اے شعیب اقبال نے بھی حج ہاؤس کو دوارکا منتقل کرنے کی مخالفت کی تھی ، جس کی وجہ سے پورا پروجیکٹ التوا کا شکار رہا اور شیلا دکشت 2013 تک 5 سال تک اقتدار میں رہیں ، پھر بھی حج ہاؤس کی تعمیر کا کام شروع تک نہیں ہو سکا ۔

    علاقہ اور آس پاس کے علاقہ میں حج ہاؤس کے پروجیکٹ کے خلاف ناراضگی اور مخالفت بہت شدید طور پر موجود ہے ۔
    علاقہ اور آس پاس کے علاقہ میں حج ہاؤس کے پروجیکٹ کے خلاف ناراضگی اور مخالفت بہت شدید طور پر موجود ہے ۔


     عآپ کا اقتدار اور حج ہاؤس

    دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے تین سال پہلے ہی حج ہاؤس کے بجٹ کا اعلان کر دیا تھا  ۔ ہر سال کچھ بجٹ ملنا تھا ، جس کے تحت تقریبا 100 کروڑ کی لاگت سے حج ہاؤس بننا تھا ، لیکن یہ آج تک نہیں ہوا ۔ کئی سالوں سے بجٹ منصوبہ میں حج ہاؤس کے لیے رقم تخمینہ مختص کیا جاتا ہے ، لیکن اس رقم کا کبھی تعمیراتی طور پر استعمال نہیں ہوتا ہے ۔ فی الحال دہلی حکومت کا اس پورے پروجیکٹ پر جس طرح کا رویہ ہے ، اس  سے نہیں لگتا کہ فی الحال یہاں تعمیراتی کام شروع کرنے کا کوئی امکان ہے۔

     حج ہاؤس کے معاملہ پر تنازعہ کیسے شروع ہوا

    آل دوارکا ریسیڈنٹ ویلفیئر فیڈریشن کی جانب سے دہلی کے ایل جی انل بیجل کو ایک خط لکھا گیا ، جس کے بعد یہ پورا تنازع شروع ہوگیا ۔ آل ویلفیئر ریسیڈنٹ ویلفیئر فیڈریشن کی جانب سے دہلی کے ایل جی انل بیجل کو حج ہاؤس کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے لیے لکھے گئے ایک متنازع خط میں کہا گیا ہے کہ اگر حج ہاؤس بنایا گیا تو وہاں سے ہندوؤں کو علاقہ چھوڑنا پڑے گا ۔ یہ علاقہ ایک شاہین باغ بن جائے گا ، وہاں فسادات ہوں گے اور ٹریفک کے مسائل پیدا ہوں گے ، جس کے بعد اس مسئلے پر تنازع ہوا تھا۔

    کیا ہے لوگوں کی رائے؟

    حج ہاؤس جیسے مسئلہ پر احتجاج اور خطوط لکھنے کے حوالے سے لوگوں کی رائے الگ الگ ہے ۔ علاقہ کے بہت سے باشندے اس معاملہ پر سیاست ہونے اور کارپوریشن انتخابات کے نزدیک آنے کی وجہ سے اس پورے موضوع کو اٹھائے جانے سے ناراض ہیں ۔ اسی علاقہ میں رہنے والی ایک سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے اس پورے معاملہ کو سیاسی طور پر محرک قرار دیا ہے ۔ شبنم ہاشمی کا کہنا ہے کہ 13 سال سے کچھ نہیں ہوا ، صرف منصوبے کے بارے میں تنازع بتاتا ہے کہ اس کے پیچھے کچھ اور محرکات بھی ہیں اور یہ سیاست ہے ۔ اس علاقہ میں تمام مذاہب کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں اور یہ ایک میٹروپولیٹن شہر ہے ۔ اسی علاقے کی رہائشی لینا نے کہا کہ اس قسم کا خط لکھا گیا ہے ، یہ لوگوں کو اشتعال دلانے والا ہے ، ہم اس اے ڈی آر ایف جیسی فیڈریشن اور وفاق پر یقین نہیں رکھتے اور ہمیں یہ نہیں معلوم کج وفاق کیا ہے ، یہ ہم سب کی نمائندگی نہیں کرتا ۔

      دوارکا کی دیگر اقلیتوں میں تشویش

    حج ہاؤس کے تنازع کے سامنے ایک بات جس طرح سے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور جس طرح کے خطوط لکھے گئے ہیں ، اس کے بعد یہاں کی اقلیتوں میں بھی تشویش پیدا ہوگئی ہے ۔ علاقہ کی ایک تنظیم سے تعلق رکھنے والے باشندے روجر سیمیول نے ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح کا خط اے ڈی آر ایف کی جانب سے لکھا گیا ہے ، وہ اس سے متفق نہیں ہیں وہ اس کی مذمت کرتے ہیں ۔ آج حج ہاؤس کے نام پر مسلم طبقہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ، کل عیسائی طبقہ کو اور اس کے بعد سکھ طبقہ کو نشانہ بنایا جائے گا ۔

     جنتر منتر پر مظاہرے کا اعلان

    اس موضوع کو ہندو تنظیموں نے  بڑے  پیمانے پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور 8 اگست کو جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے وقت میں یہ مسئلہ دہلی کی سیاست میں گرم ہونے والا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: