ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ڈی ڈی سی اے معاملہ : کیرتی آزاد اور بشن سنگھ بیدی کو دہلی ہائی کورٹ کا جھٹکا

نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈي ڈي سي اے) پر مبینہ بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات سی بی آئی سے عدالت کی نگرانی میں کرانے سے متعلق سابق ہندستانی کرکٹرز کیرتی آزاد اور بشن سنگھ بیدی کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 09, 2016 06:18 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ڈی ڈی سی اے معاملہ : کیرتی آزاد اور بشن سنگھ بیدی کو دہلی ہائی کورٹ کا جھٹکا
نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈي ڈي سي اے) پر مبینہ بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات سی بی آئی سے عدالت کی نگرانی میں کرانے سے متعلق سابق ہندستانی کرکٹرز کیرتی آزاد اور بشن سنگھ بیدی کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈي ڈي سي اے) پر مبینہ بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات سی بی آئی سے عدالت کی نگرانی میں کرانے سے متعلق سابق ہندستانی کرکٹرز کیرتی آزاد اور بشن سنگھ بیدی کی درخواست کو مسترد کر دیا۔


آزاد اور بیدی نے ڈي ڈي سي اے میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات عدالت کی نگرانی میں مرکزی تفتیشی بیورو سے کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔جج منموہن نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی نے گذشتہ سال اکتوبر میں اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات شروع کر دی تھی۔


 عدالت نے کہا کہ عدالت کا خیال ہے کہ اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات پہلے ہی شروع ہو چکی ہے اور عدالت کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کی ہدایات صرف اس لئے نہیں دی جا سکتیں کیونکہ مرکزی وزیر کا نام اس معاملے میں ملوث کیا گیا ہے۔


مرکز میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے معطل رہنما آزاد اور بیدی نے ڈي ڈي سي اے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزام لگائے تھے۔اس معاملے میں سابق کرکٹرز نے ڈي ڈي سي اے کے سابق سربراہ اور موجودہ مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور ڈي ڈي سي اے کے کئی افسران پر بدعنوانی کے الزام لگائے تھے۔


عدالت نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ساتھ ہی کہا کہ عدالت کا یہ بھی خیال ہے کہ خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) اور عدالت کی نگرانی میں تحقیقات نادر معاملات میں ہی ہوتی ہے اور اس معاملے میں اس کی اجازت اس لئے نہیں دی جا سکتی کیونکہ پٹیشن میں مرکزی وزیر کا نام ہے۔


ہائی کورٹ نے ساتھ ہی سی بی آئی کو اس معاملے میں قانون کے دائرے میں ہر پہلو کی جانچ پڑتال کرنے کے بھی ہدایات دی۔عدالت میں بیدی کی طرف سے دلیل پیش کرتے ہوئے سینئر وکیل رام جیٹھ ملانی نے کہا کہ کیونکہ بدعنوانی کے الزامات میں ایک مرکزی وزیر کا نام شامل ہے اس لیے سی بی آئی شفافیت اور مکمل آزادی کے ساتھ معاملے کی تحقیقات نہیں کر سکتی ہے، اور ایسے میں عدالت کی نگرانی کی ضرورت ہے۔


سی بی آئی کی جانب ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نیرج کشن کول نے آزاد اور بیدی کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی تفتیشی بیورو معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور یہ نتیجہ تک پہنچے گی۔انہوں نے بتایا کہ سی بی آئی نے ڈي ڈي سي اے سے کچھ دستاویزات کا مطالبہ کیا ہے اور کچھ گواہ بھی طلب کئے ہیں۔


کول نے کہا کہ سی بی آئی آزادانہ ادارہ ہے اور صرف درخواست گزار چاہتے ہیں کہ عدالت کیس کی تحقیقات کرے تو ایسا نہیں ہو سکتا ہے۔اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اپنے ذاتی تنازعات کو حل کرنے کیلئے ایسی رٹ استعمال نہیں کی جا سکتی ہیں۔اس معاملے میں مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل سنجے جین نے بھی درخواست کی مخالفت کی۔


سابق کرکٹرز آزاد، بیدی، منندر سنگھ، کرکٹ کوچ گرچر ن سنگھ اور دو دیگر نے یہ پٹیشن دائر کی تھی اور مرکزی حکومت سے ڈي ڈي سي اے کو ملنے والی سبسڈی کو بند کرنے کی ہدایات دینے کی بھی مانگ کی تھی۔

First published: Feb 09, 2016 06:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading