உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    منفعت بخش عہدہ کے معاملہ میں عآپ کے 20 ارکان اسمبلی کو بڑی راحت

    دلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال: فائل فوٹو۔

    دلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال: فائل فوٹو۔

    منفعت بخش عہدہ کے معاملہ میں نااہل قرار دئیے گئے عام آدمی پارٹی کے 20 ارکان اسمبلی کو دلی ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔

    • Share this:

      نئی دہلی۔ منفعت بخش عہدہ کے معاملہ میں نااہل قرار دئیے گئے عام آدمی پارٹی کے 20 ارکان اسمبلی کو دلی ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ جمعہ کو آپ ارکان اسمبلی کی درخواستوں پر سماعت کے بعد عدالت نے یہ فیصلہ دیا۔ دہلی ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو پلٹ دیا ہے۔ ایسے میں ان ایم ایل ایز کی رکنیت برقرار رہے گی۔


      بتا دیں کہ منافع بخش عہدہ کے معاملے میں ان ارکان اسمبلی نے مرکز کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنے کی مانگ کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں الگ الگ آٹھ درخواستیں داخل کی تھیں جس پر عدالت نے فیصلہ دیا ہے۔


      عدالت کے فیصلے کے بعد دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ٹویٹ کر کے اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ کیجریوال نے ٹوئٹر پر لكھا- "سچ کی جیت ہوئی۔ دہلی کے لوگوں کی طرف سے منتخب  نمائندوں کو غلط طریقے سے برخاست کیا گیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی کے لوگوں کو انصاف دیا۔  دہلی کے لوگوں کی بڑی جیت۔ دہلی کے لوگوں کو مبارکباد۔




      وہیں، آپ ممبران اسمبلی کو لے کر ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد کانگریس لیڈر اجے ماکن نے ٹوئٹر پر عام آدمی پارٹی اور دہلی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ ماکن نے ٹویٹ كيا- "اچھا ہے کورٹ نے آپ کے 20 ممبران اسمبلی کو کرپشن کے الزامات سے بری کر دیا۔ دہلی حکومت الیکشن کمیشن کے سامنے پہلے یہ قبول کر چکی ہے کہ پارلیمانی سیکرٹری وزراء کے برابر ہیں۔ ان کے دفتر، فرنیچر اور ٹرانسپورٹیشن پر کافی رقم خرچ ہوئی تھی۔ کیا یہ بدعنوانی نہیں ہے؟ "




      الیکشن کمیشن نے اسی برس 19 جنوری کو پارلیمانی سکریٹری کو آفس آف پرافٹ مانتے ہوئے صدر جمہوریہ سے عام آدمی پارٹی کے 20 ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کی سفارش کی تھی اور صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے الیکشن کمیشن کی سفارشات کو تسلیم کرتے ہوئے ان ارکان کی رکنیت ختم کردی تھی۔ دہلی اسمبلی کے لئے فروری 2015 میں منعقد ہوئے انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے 70 میں 67 سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی۔ مسٹر اروند کجریوال نے وزیراعلی بننے کے بعد 21 ارکان اسمبلی کو وزراء کا پارلیمانی سکریٹری متعین کیا تھا۔ پرشانت پٹیل نامی وکیل نے ارکان کو پارلیمانی سکریٹری متعین کئے جانے کے خلاف شکایت کی تھی۔ ایک رکن اسمبلی جنریل سنگھ نے پنجاب اسمبلی سے انتخابات لڑنے کے لئے دہلی اسمبلی سے استعفی دے دیا تھا۔

      الیکشن کمیشن کے ذریعہ نااہل قرار دئے گئے ارکان اسمبلی میں شردکمار (نریلا)، آدرش شاستری (دوارکا)، پروین کمار (جنگ پورہ)، شیوچرن گوئل (موتی نگر)، مدن لال (کستوربا نگر)، سنجیو جھا (براڑی)، سریتا سنگھ (روہتاس نگر)، راجیش گپتا (وزیرپور)، نریش یادو (مہرولی)، راجیش رشی (جنک پوری)، انل کمار واجپئی (گاندھی نگر)، اوتار سنگھ (کالکا جی)، سوم دت (صدر بازار)، جنریل سنگھ (تلک نگر)، وجیندر گرگ وجے (راجیندر نگر)، کیلاش گہلوت (نجف گڑھ)، الکا لامبا (چاندنی چوک)، نتن تیاگی (لچھمی نگر)، منوج کمار (کونڈلی) اور سکھ ویر سنگھ (مڈکا) شامل تھے۔

      نیوز ایجنسی یو این آئی، اردو کے ان پٹ کے ساتھ

      First published: