உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Delhi Riots: دہلی ہائی کورٹ نے پنجرا توڑ کارکنان نتاشا ، دیوانگنا اور آصف کو دی ضمانت

    Delhi Riots: دہلی ہائی کورٹ نے پنجرا توڑ کارکنان نتاشا ، دیوانگنا اور آصف کو دی ضمانت

    Delhi Riots: دہلی ہائی کورٹ نے پنجرا توڑ کارکنان نتاشا ، دیوانگنا اور آصف کو دی ضمانت

    جسٹس سدھارتھ مِردُل اور جسٹس انوپ جے بھنبھانی نے نچلی عدالت کے حکم کو خارج کرتے ہوئے تینوں کو 50 ہزار روپے کے نجی مچلکے اور دو نجی سیکورٹی پر ضمانت کی عرضی کو منظور کر لیا۔ عدالت نے انھیں پاسپورٹ جمع کرنے کے ساتھ ہی مقدمے اور تفتیش میں دخل نہ دینے کا حکم دیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے شمال مشرقی دہلی فسادات کے معاملے میں مبینہ منظم سازش کے الزام میں غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت جیل میں بند طلبہ کارکنان نتاشا نروال، دیوانگنا کلیتا اور آصف اقبال تنہا کی ضمانت کی عرضی منگل کے روز منظور کر لی ۔ جسٹس سدھارتھ مِردُل اور جسٹس انوپ جے بھنبھانی نے نچلی عدالت کے حکم کو خارج کرتے ہوئے تینوں کو 50 ہزار روپے کے نجی مچلکے اور دو نجی سیکورٹی پر ضمانت کی عرضی کو منظور کر لیا۔ عدالت نے انھیں پاسپورٹ جمع کرنے کے ساتھ ہی مقدمے اور تفتیش میں دخل نہ دینے کا حکم دیا ہے۔

      دہلی میں جواہرلعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کی ریسرچ اسکالر نروال اور کلیتا اور مختلف کالجوں کے طلبہ کا گروپ ’پنجرا توڑ‘ کے رکن گزشتہ برس مئی سے تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ وہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) میں بی اے سال آخر کے طالب علم تنہا کو مئی 2020 میں دہلی فسادات کے معاملوں میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور وہ مسلسل زیر حراست ہیں۔

      پولیس کا دعویٰ ہے کہ تنہا نے شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں مظاہرے کرنے میں سرگرم کردار ادا کیا تھا۔ بتادیں کہ دہلی ہائی کورٹ نے چار جون کو تنہا کو 13 سے 26 جون تک دو ہفتوں کیلئے عبوری ضمانت دی تھی تاکہ وہ 15 جون سے ہونے والے امتحانات کے پیش نظر اسٹڈی کرنے اور امتحان میں شامل ہونے کیلئے دہلی کے ہوٹل میں رہ سکے ۔

      قابل ذکر ہے کہ 24 فروری 2020 کو شمال-مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان تشدد مشتعل کرنے کے بعد ہوئے فسادات میں 53 افراد مارے گئے تھے اور تقریباً دیگر 200 افراد زخمی ہوئے تھے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: