உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو دی ڈیڈلائن، 30 ستمبر تک قومی اقلیتی کمیشن کے خالی عہدوں کو بھرنے کی ہدایت

    دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو دی ڈیڈلائن، 30 ستمبر تک قومی اقلیتی کمیشن کے خالی عہدوں کو بھرنے کی ہدایت

    دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو دی ڈیڈلائن، 30 ستمبر تک قومی اقلیتی کمیشن کے خالی عہدوں کو بھرنے کی ہدایت

    اس سے پہلے 31 جولائی تک کارروائی پوری کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔ مرکز نے ایک درخواست دائر کرکے عدالت سے اپیل کی تھی کہ یہ میعاد تین ماہ کیلئے بڑھادی جائے ۔ اس کے بعد عدالت نے میعاد کو مزید دو ماہ بڑھانے کا حکم دیا ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ قومی اقلیتی کمیشن کے سبھی خالی عہدوں کو 30 ستمبر تک بھرا جائے ۔ دہلی ہائی کورٹ نے قومی اقلیتی کمیشن میں خالی سبھی عہدوں کو بھرنے کیلئے مرکزی حکومت کو دی گئی میعاد کو دو مہینے کیلئے مزید بڑھادیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ کارروائی 30 ستمبر تک پوری کرلی جائے گا ۔

      اس سے پہلے 31 جولائی تک کارروائی پوری کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔ مرکز نے ایک درخواست دائر کرکے عدالت سے اپیل کی تھی کہ یہ میعاد تین ماہ کیلئے بڑھادی جائے ۔ اس کے بعد عدالت نے میعاد کو مزید دو ماہ بڑھانے کا حکم دیا ۔ عدالت نے کہا کہ میعاد بڑھانے کی درخواست کو منظوری دی جاتی ہے اور اس کو 30 ستمبر تک کیلئے بڑھایا جاتا ہے ۔

      معاملہ کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے پہلے ہدایت دی تھی کہ سبھی خالی عہدوں پر تقرری 31 جولائی تک ہوجانی چاہئے تاکہ کمیشن کا کام کاج چلتا رہا ۔ مرکز نے اپریل اور مئی مہینے میں ملک میں کورونا کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے مدت میں توسیع کرنے کی درخواست کی تھی ۔

      عرضی گزار کی طرف سے پیش وکیل نے کہا کہ حکم پر عمل کرنے کیلئے اگر مرکز کو مناسب توسیع دی جاتی  ہے تو اس کی مخالفت نہیں کریں گے ۔ دہلی ہائی کورٹ میں ابھے رتن بودھ کی طرف سے دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کا کام کاج اکتوبر 2020 سے صرف اس کے نائب چیئرمین سنبھال رہے ہیں جبکہ چیئرمین اور بودھ ، عیسائی ، پارسی ، سکھ اور جین اقلیتی کمیونٹی کے اراکین سمیت عہدے خالی پڑے ہیں ۔

      عرضی میں کہا گیا ہے کہ اپریل 2020 سے عہدے خالی ہونے شروع ہوگئے اور متعلقہ وزارت کے نوٹس میں معاملہ لانے کے باوجود کچھ نہیں کیا گیا ۔ مرکزی حکومت نے عدالت سے کہا تھا کہ کورونا وبا کے دوران عہدے خالی ہوئے ہیں ورنہ کمیشن موثر طریقہ سے کام کررہا تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: