ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اشتعال انگیز تقاریر: سونیا، راہل اور دیگر لیڈران کے معاملے میں ہائی کورٹ نے مرکز اور دہلی پولیس کو بھیجا نوٹس

اشتعال انگیزبیان دینےکے معاملے میں سونیاگاندھی، راہل گاندھی اورپرینکاگاندھی سمیت کئی لیڈران کےخلاف دہلی ہائی کورٹ میں آج سماعت ہے۔ اشتعال انگیز بیانات کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ آج سماعت کرےگا ۔دہلی ہائی کورٹ نے ایسے بیانات دینے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور کاروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کمشنر سے تھا کہ وہ دیئے گئے متنازع بیانات کو سنیں اور ان پر ایف آئی درج کریں۔ اس معاملے میں دہلی پولیس کمشنر کو آج کورٹ میں جواب داخل کرنا ہے۔

  • Share this:

کانگریس کی عبوری صدر سونیا ، راہل گاندھی ،پرینکاگاندھی  اوردیگرسیاستدانوں کی مبینہ اشتعال انگیز تقریروں کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے نوٹس جاری کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے مرکز، دہلی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ اس معاملے میں اگلی سماعت 13اپریل کو ہوگی۔ عرضی گذار نے اس معاملے کی جانچ کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست بھی کی ہے۔ خاص بات یہ ہےکہ عرضی میں جن افراد کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے ان میں بی جے پی لیڈران کپل مشرا۔ انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما کے نام شامل نہیں ہیں۔

"हेट لائرس وائس تنظیم کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس سی ہری شنکر کی بنچ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔



درخواست میں دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا ، عآپ کے ممبر اسمبلی امانت اللہ خان ، ممبئی سے اے ایم آئی ایم کے سابق ایم ایل اے وارث پٹھان اور اے آئی ایم آئی ایم لیڈر اکبر الدین اویسی اور اسدالدین اویسی کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کی بھی کوشش کی گئی تھی۔ ان سب کے خلاف دائر درخواست پر ، ہائی کورٹ نے مرکز کو نوٹس جاری کیا ہے۔
First published: Feb 28, 2020 11:48 AM IST