உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تبلیغی مرکز پر دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ ، مولانا سعد کی والدہ کو رہائشی حصہ دو دن کے اندر سپرد کرے دہلی پولیس

    تبلیغی مرکز پر دہلی ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ ، مولانا سعد کی والدہ کو رہائشی حصہ دو دن کے اندر سپرد کرے دہلی پولیس

    تبلیغی مرکز پر دہلی ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ ، مولانا سعد کی والدہ کو رہائشی حصہ دو دن کے اندر سپرد کرے دہلی پولیس

    ہائی کورٹ نے سپردگی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ مولانا سعد کی والدہ کو سپردگی دو دن کے اندر کی جانی چاہئے ۔ تاکہ وہ وہاں جا کر ٹھہر سکیں ۔ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں مولانا سعد کی والدہ کو بھی ہدایت دی کہ وہ مرکز کے کسی دوسرے حصے میں نہیں جائیں گی ۔

    • Share this:
    نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ نظام الدین مرکز کے رہائشی حصے تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا محمد سعد کی والدہ کے حوالے کردیں اور وہ بھی دو دن کے اندر سپرد کرنے کا عمل پورا کیا جائے ۔ اس کے ساتھ پچھلے ایک سال سے زیادہ سے بند پڑے تبلیغی جماعت کے مرکز کے ایک حصے  کے کھولے جانے پر پوری طریقے سے مہر لگ گئی ہے ۔ تاہم تبلیغی جماعت کی سرگرمیاں جہاں سے چلتی تھی زیادہ تر حصہ فی الحال ابھی مقفل ہے ۔ موجودہ وقت میں صرف پچاس لوگوں کو بنگلہ والی مسجد یعنی تبلیغی جماعت کے مرکز میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔

    ہائی کورٹ نے سپردگی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ مولانا سعد کی والدہ کو سپردگی دو دن کے اندر کی جانی چاہئے ۔ تاکہ وہ وہاں جا کر ٹھہر سکیں ۔  ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں مولانا سعد کی والدہ کو بھی ہدایت دی کہ وہ مرکز کے کسی دوسرے حصے میں نہیں جائیں گی ۔

    سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کیا ؟؟  کون سا سیکشن ہے ؟؟  کسی سائٹ کو محفوظ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اسے مقفل کر دیں۔  آپ تصویر لیں اور وہاں سے چلے جائیں ، یہ کیا ہے ؟؟  کیا معاملہ تھا ؟؟  صرف یہ کہ نظام الدین مرکز کے اندر لوگ رہ رہے تھے اور وہ اندر جہاں رہ رہے تھے؟  وہاں سے آپ کو شواہد کی بازیابی ہوئی تھی؟

    آپ کو بتاتے چلیں کہ مولانا سعد کی والدہ خالدہ نے سب سے پہلے نچلی عدالت سے رجوع کیا۔ نچلی عدالت نے خالدہ کے حق میں فیصلہ دیا۔  پھر دہلی پولیس نے سیشن کورٹ سے رجوع کیا ۔  سیشن کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے پر روک لگا دی  اور پھر خالدہ نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ۔ یہاں فیصلہ خالدہ کے حق میں آیا ہے۔

    ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پولیس خالدہ کو دو دن کے اندر رہائشی علاقے کی چابیاں دے دے ۔ تاکہ وہ وہاں رہ سکیں اور خالدہ مرکز نظام الدین کے کسی دوسرے حصے میں نہیں جائیں گی ۔

    دوسری جانب تبلیغی جماعت کے مرکز پر فی الحال پچاس لوگوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت ہے کیوں کہ مرکز کے اندر ایک مسجد بھی ہے ۔ تاہم ابھی تبلیغی سرگرمیاں مرکز سے نہیں چل رہی ہیں اور یہ پورا معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: