உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دلی ہائی کورٹ نے پوچھا، ایل جی دفتر میں دھرنے کی اجازت کس نے دی؟

    وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور ان کے وزرا ایل جی دفتر میں دھرنے پر۔

    وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور ان کے وزرا ایل جی دفتر میں دھرنے پر۔

    دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کے وزرا کے لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر میں دھرنے کو لے کر دلی ہائی کورٹ نے کئی سخت سوالات پوچھے ہیں۔

    • Share this:
      دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کے وزرا کے لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر میں دھرنے کو لے کر دلی ہائی کورٹ نے کئی سخت سوالات پوچھے ہیں۔ دلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز پوچھا کہ دھرنے کے لئے ایل جی سے اجازت کیوں نہیں لی گئی؟ بی جے پی رکن اسمبلی وجیندر گپتا کی عرضی پر آج سماعت کرتے ہوئے عدالت نے یہ تلخ سوال کیا۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملہ کا حل نکلنا چاہئے۔ معاملہ کی اگلی سماعت اب 22 جون کو ہو گی۔

      دلی ہائی کورٹ نے سرکار کے وکیل سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ دھرنا یا ہڑتال؟ کچھ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا ہے۔ اس کے جواب میں وکیل نے کہا کہ یہ دھرنا یا ہڑتال نہیں ہے۔ اروند کیجریوال اور وزرا ایل جی سے ملنے گئے تھے۔ مطالبہ نہیں ماننے پر وہاں بیٹھ گئے ہیں۔

      اس کے بعد ہائی کورٹ نے پھر پوچھا کہ وہاں بیٹھنے کی اجازت کس نے دی؟ دلی سرکار کے وزرا کس کے دفتر کے سامنے بیٹھے ہیں۔ اس کے بعد کورٹ نے سختی سے پوچھا کہ وہ ان کے دفتر کے باہر بیٹھے ہیں تو کیا وہ دھرنا کرنے کی جگہ ہے؟ کیا انہیں ایل جی نے دھرنا یا ہڑتال کرنے کی اجازت دی ہے؟
      First published: