ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی میں جامع مسجد بکرا منڈی کو کیا جاسکتا ہے رد

دہلی میں جامع مسجد پر کارپوریشن کے پارکوں میں بکرا منڈی لگائی جاتی ہے ۔ کارپوریشن اس کا کرایہ وصول کرتی ہے ۔ پندرہ دن قبل منڈی پوری طرح سج جاتی تھی ۔ حالانکہ بقرعید میں اب صرف 13 دن ہی باقی بچے ہیں اور جامع مسجد پر ہرسال کی طرح بکرا منڈی سج جانی چاہئے تھی ، لیکن ابھی یہاں پر منڈی کی جگہ پوری طرح سنسان ہے ۔

  • Share this:
دہلی میں جامع مسجد بکرا منڈی کو کیا جاسکتا ہے رد
دہلی میں جامع مسجد بکرا منڈی کو کیا جاسکتا ہے رد ۔ علامتی تصویر

کورونا وائرس نے زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کیا ہے اور اب یہ دائرہ بڑھ کر تہواروں کو پھیکا کررہا ہے ۔ اب بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس مرتبہ جامع مسجد پر ہزاروں بکروں کی منڈی لگے گی ؟ یہ سوال اسلئے اٹھ رہا ہے کیونکہ اب تک کارپوریشن بکرا منڈی کو لے کر کوئی فیصلہ نہیں لے سکا ہے ۔ کیونکہ کورونا وبا کی وجہ سے جو قوانین اور گائیڈ لائنس وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کی گئی ہیں ، ان کے مدنظر اس طرح کی منڈی لگایا جانا ممکن نہیں ہے ۔ شمالی دہلی کارپوریشن کے میئر جے پرکاس گپتا کا کہنا ہے کہ ابھی تک کئی میٹنگ ہوئی ہیں ، لیکن کوئی فیصلہ نہیں لیا جاسکا ہے ۔ ہم نے دہلی پولیس اور دیگر محکموں سے بات چیت کی ہے ۔ جے پرکاش گپتا نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے جب سے دہلی کو کورونا کو لے کر اپنے تحت لیا ہے ، تب سے دہلی میں اس وبا کے کیسوں کی تعداد کم ہورہی ہے ۔ اگر منڈی میں سماجی دوری اور دوسری گائیڈ لائنس کی خلاف ورزی کی گئی اور بیماری پھیل گئی تو اس کی ذمہ داری کس کی ہوگی اورکون اس کے لئے جواب دہ ہوگا ۔


عیدالاضحی سے پندرہ دن قبل لگ جایاکرتی ہے منڈی


دہلی میں جامع مسجد پر کارپوریشن کے پارکوں میں بکرا منڈی لگائی جاتی ہے ۔ کارپوریشن اس کا کرایہ وصول کرتی ہے ۔ پندرہ دن قبل منڈی پوری طرح سج جاتی تھی ۔ حالانکہ بقرعید میں اب صرف 13 دن ہی باقی بچے ہیں اور جامع مسجد پر ہرسال کی طرح بکرا منڈی سج جانی چاہئے تھی  ، لیکن ابھی یہاں پر منڈی کی جگہ پوری طرح سنسان ہے ۔ حالانکہ بکرامنڈی لگائے جانے سے کارپوریشن کو بھی فائدہ ہوتا تھا ۔ کیونکہ کارپوریشن جانوروں کی فروخت کرنے کے لئے آنے والوں سے اپنی جگہ کا کرایہ وصول کرتی تھی ۔ یہ اسلئے بھی اہم ہے کیونکہ دہلی میں کارپوریشن کو سالوں سے خسارے کا سامنا ہے اور ہر سال دہلی حکومت اور کارپوریشن میں اس بات کو لے کر کشیدگی رہتی ہے کہ دہلی حکومت کارپوریشن کی گرانٹ جاری نہیں کررہی یا پھر دیری کی جارہی ہے ، جس کی وجہ سے ملازمین کی تنخواہوں کے دینے میں مسائل پیش آرہے ہیں ۔


مقامی لوگوں کیلئے ہوگی مشکل

ویسے تو جامع مسجد بازار سے پوری دہلی کے لوگ بکروں کی خریداری کرتے ہیں ، لیکن پرانی دہلی کے لوگ یہیں سے خریداری کرتے ہیں ۔ کیونکہ یہاں پر ہر طرح کے بکرے آتے تھے۔  دس پندرہ ہزار سے لے کر پانچ دس لاکھ تک کے بکرے یہاں مل جایا کرتے تھے ، لیکن اب یہاں کے لوگوں کیلئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی ۔ مقامی کونسلر اور اس علاقہ میں سٹی زورن کے چیئرمین رہ چکے آل محمد اقبال کہتے ہیں کہ ہم نے کئی مرتبہ کارپوریشن کو اس بارے میں بیدار کرنے کی کوشش کی ، لیکن مسئلہ ملک میں وبائی ایکٹ نافذ ہونے کا ہے اور کارپوریشن کے لوگ اس منڈی کو ایک پروگرام کے طورپر دیکھ رہے ہیں جبکہ یہ تجارتی سرگرمی ہے ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ایسے ہی اجازت دی جائے ۔ تاہم پابندیوں اور تما م طرح کی گائیڈ لائنس کے ساتھ منڈی لگائی جانی چاہئے ۔ تاہم اس کار استہ دہلی حکومت اور کارپوریشن کو نکالنا ہے ۔

عام مزدوروں کو بھی ہورہا ہے نقصان

بکرا منڈی نہ صرف کچھ لوگوں کے لئے کاروبار ہے بلکہ محنت مزدوری کرنے والوں کے لئے کچھ پیسے کمانے کا بھی موقع ہوتا ہے ۔ رکشہ مزدوروں کو ایسی صورتحال میں اس سے بھی زیادہ اجرت حاصل ہوجایا کرتی ہے ، کیونکہ وہ بکروں کو گھر تک پہنچانے کا م کرتے ہیں ۔ جہاں بقر عید کے تہوار کے لئے بکروں کی خریداری کے بارے میں دہلی کے عام لوگ پریشان ہیں ، تو وہیں مزدور بھی آمدنی کم ہونے کے ماحول میں نقصان دیکھ رہے ہیں ۔ اگربکرا منڈی نہیں لگتی ہے تو جہاں دہلی کی معیشت کو خسارہ ہوگا وہیں جانوروں کی خرید و فروخت سے لے کر پالن کرنے والوں کو اس سے بڑا نقصان ہوگا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 18, 2020 06:22 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading