ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

حکیم اجمل خان کی قبرخستہ حال، دہلی اقلیتی کمیشن نے جامعہ ملیہ اوردہلی وقف بورڈ کو جاری کیا نوٹس

دہلی اقلیتی کمیشن نے رجسٹرارجامعہ ملیہ اسلامیہ اورسکریٹری دہلی وقف بورڈ کو نوٹس جاری کرکے پوچھا ہے کہ حکیم اجمل خان کی قبر کی حفاظت اور مرمت کی ذمہ داری کس کی ہے اور اس سلسلے میں کیا کیا جارہا ہے۔

  • Share this:
حکیم اجمل خان کی قبرخستہ حال، دہلی اقلیتی کمیشن نے جامعہ ملیہ اوردہلی وقف بورڈ کو جاری کیا نوٹس
دہلی اقلیتی کمیشن نے رجسٹرارجامعہ ملیہ اسلامیہ اورسکریٹری دہلی وقف بورڈ کو نوٹس جاری کرکے پوچھا ہے کہ حکیم اجمل خان کی قبر کی حفاظت اور مرمت کی ذمہ داری کس کی ہے اور اس سلسلے میں کیا کیا جارہا ہے۔

نئی دہلی: خدائی خدمتگار تنظیم کے کچھ ذمہ داران نے دہلی اقلیتی کمیشن کی توجہ مبذول کرائی ہے کہ عظیم مجاہد آزادی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق چانسلراورملک و ملت کے محسن حکیم اجمل خاں کی نائی والا، قرول باغ میں واقع قبرانتہائی خستہ حالت میں ہے، جو پورے ملک اورمسلم قوم کے لئے شرم کی بات ہے۔


مذکورہ قبرآزادی سے قبل قرول باغ میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس کےاندرہے اوریہ جگہ غالباً اب بھی قانونی طورسے جامعہ کی ملکیت ہے۔ اس سلسلے میں اقلیتی کمیشن نے رجسٹرارجامعہ ملیہ اسلامیہ اورسکریٹری دہلی وقف بورڈ کو نوٹس جاری کرکے پوچھا ہے کہ حکیم اجمل خان کی قبر کی حفاظت اور مرمت کی ذمہ داری کس کی ہے اور اس سلسلے میں کیا کیا جارہا ہے۔


درگاہ خواجہ سید ابراہیم

راشٹرپتی بھون سے متصل پولو گراؤنڈ میں واقع درگاہ حضرت خواجہ سید ابراہیم کی پانی کی لائن برسوں پہلے کاٹ دی گئی تھی اور درگاہ کے متولی کی کوششوں کے باوجود دوبارہ کنکشن نہیں لگ سکا۔ دہلی اقلیتی کمیشن نے اس سلسلے میں کافی محنت کی۔ بالآخر نئی دہلی میونسپل کارپوریشن کے سول انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ نے اطلاع دی ہے کہ مذکورہ درگاہ تک ایک صارف کے لئے پانی کا کنکشن کھینچنا ممکن نہیں ہے، البتہ اگردرگاہ کے ذمہ داراگر وہاں سنٹکس ٹنکی لگوالیں تو محکمہ ٹینکرسے وہاں پانی پہنچانے کی ذمہ داری لیتا ہے۔

او بی سی سر ٹیفکیٹ
دہلی یونیورسٹی کے ڈپٹی رجسٹرا ر(اکیڈمک) نے دہلی اقلیتی کمیشن کواطلاع دی ہے کہ ایک آفس میمورنڈم کے بموجب اس سال داخلے کے وقت اوبی سی طلبہ سے کریمی لیئرسے باہر ہونے کا سرٹیفکٹ مانگا گیا تھا، لیکن یونیورسٹی نے بتایا کہ کسی بھی درست (valid)او بی سی سرٹیفکٹ کے حامل طالب علم کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے۔ در حقیقت کمیشن کو شکایت ملی تھی کہ درست او بی سی سرٹیفکٹ کے حامل درخواست کننداں سے نئے او بی سی سرٹیفکٹ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ کمیشن نے اس سلسلے میں دہلی یونیورسٹی کو نوٹس بھیجا تھاجس کے نتیجے میں مذکورہ مطالبہ ختم کردیاگیا جس سے تقریباً ساڑھے چودہ ہزار او بی سی طلبہ کو راحت ملی اور ان کا بر وقت داخلہ ہوگیا ورنہ ان کا تعلیمی سال برباد ہوجاتا۔

فدائی خان مسجد ومدرسہ کو ملے گا پانی
نئی دہلی: سرائے روہیلہ میں واقع مسجد فدائی خان ، جس میں میں مدرسہ الجامعۃ الاسلامیۃ العربیۃ قاسم العلوم بھی قائم ہے، کی دیوار کے ساتھ ایک مسلم شخص نے جھگی بنالی تھی ۔ میونسپل کارپوریشن میں شکایت کرنے سے ایم سی ڈی نے پولیس کی مدد سے جھگی توڑدی۔ اس کے بعد اس مسلم شخص نے ضد میں وہاں ایک مندر بنادیا اور مقامی غیر مسلمین کو بلاکر پوجا کرانے لگا۔ اس کی شکایت مسجدو مدرسہ کے ذمہ دار ان نے دہلی اقلیتی کمیشن میں کی کیونکہ مندر کو ہٹوانے میں دقت ہورہی تھی۔کمیشن نے کئی بار نوٹس دے کر اور پھر کیس سماعت کا سمن بھیج کر مقامی ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو طلب کیا، لیکن انہوں نے جواب دھاخل کرنے یاآنے کی زحمت نہیں کی۔ نتیجۃً کمیشن نے مذکورہ پولیس افسران کے خلاف سخت آرڈر پاس کیا اور ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کے لئے دہلی پولیس کمشنرکو لکھا۔

اس کے بعد مذکورہ افسران بھاگ کر کمیشن کے آفس میں پہنچے، معافی مانگی اور پندرہ دن کے اندر مذکورہ غیر قانونی تعمیر کو ہٹاکر وہاں ایک پولیس بوتھ لگانے کا وعدہ کیا۔ مدت ختم ہونے کے بعد پولیس افسر ان نے دوبارہ کمیشن میں آکر درخواست دی ہے کہ متعلقہ ایم سی ڈی کمشنر کو اس سلسلے میں خط لکھ دیا جائے تاکہ ان کا کام آسان ہو جائے۔اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے کمیشن نے متعلقہ ایم سی ڈی کمشنر کو خط لکھ کر مقامی پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔

لال بہادر شاستری اسپتال کو نوٹس
نئی دہلی: مشرقی دہلی میں واقع لال بہادر شاستری اسپتال میں متعین پرائیویٹ گارڈز نے دہلی اقلیتی کمیشن میں شکایت درج کی ہے کہ دیوالی کے موقع پر دہلی گورنمنٹ سے مذکورہ اسپتال کے ملازمین کے لئے بونس آیا تھا، مگر انہیں نہیں دیا گیا اور جب انہوں نے متعلقہ افسران سے مطالبہ کیا تو انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا۔کمیشن نے اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور دہلی ہیلتھ سروسز کے ڈائرکٹر کو نوٹس دے کر پوچھا ہے کہ دیوالی کے بعد کتنے گارڈز کو نکالا گیا ہے، کن شرطوں کے ساتھ ان کو ملازمت پر رکھا گیا تھا، کیا ان کو نکالنے سے پہلے کوئی انکوائری کی گئی تھی اور اگرکی گئی تھی تو اس کی کاپی دی جائے نیز دہلی گورنمنٹ سے دیوالی کے موقع پر مذکورہ اسپتال کو کتنا بونس ملا تھا ، کس غرض کے لئے ملا تھا اور کس طرح اس کی تقسیم ہوئی۔
First published: Jan 06, 2019 09:45 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading