ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ڈاکٹرذاکرنائک کو'دہشت گردی کا سلفی مبلغ' کہنے پردہلی اقلیتی کمیشن کا انگریزی اخبارکونوٹس

دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹرظفرالاسلام خان نے نیوز18 اردو سے کہا کہ یہ میں نے یہ خبرپڑھی تو مجھے بہت افسوس ہوا کہ کس طرح سے صحافت کا معیارخراب کیا جارہا ہے۔

  • Share this:
ڈاکٹرذاکرنائک کو'دہشت گردی کا سلفی مبلغ' کہنے پردہلی اقلیتی کمیشن کا انگریزی اخبارکونوٹس
متنازعہ اسلامی مبلغ ذاکر نائک: فائل فوٹو۔

نئی دہلی: دہلی اقلیتی کمیشن نے انگریزی روزنامہ پائینیرکو نوٹس بھیج کروضاحت طلب کی ہے۔ ساتھ ہی اسے جواب دینے کے لئے 11 فروری تک کا وقت دیا گیا ہے۔ دراصل یہ معاملہ اسلامی اسکالرڈاکٹرذاکر نائک کو' دہشت گردی کا سلفی مبلغ' کہنے کا ہے۔ اس معاملے پر دہلی اقلیتی کمیشن نے ازخود نوٹس لیا ہے اوراخبارکونوٹس جاری کردیا ہے۔


دراصل گزشتہ دنوں منی لاندرنگ کے مبینہ کیس میں ڈاکٹرذاکر نائک کی بعض املاک پرانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے قبضہ کرلیا ہے۔ یہ خبراخبارات اورالیکٹرانک میڈیا نے پی ٹی آئی کے حوالے سے نشرکی، جس میں ڈاکٹرذاکر نائک کو'متنازعہ مبلغ' بتایا گیا، لیکن روزنامہ پائینیرنے یہی خبراپنے20 جنوری 2019 کے شمارے میں شائع کرتے ہوئے ڈاکٹرذاکر نائک کو’’دہشت گردی کا سلفی مبلغ‘‘ کا وصف دیتے ہوئے یہ خبرشائع کی۔


دہلی اقلیتی کمیشن نے اس کا از خود نوٹس لیتے ہوئے اخبار کے ایڈیٹرکو نوٹس بھیج کرکہا ہےکہ یہ صحافتی آزادی کا انتہائی غلط استعمال ہےاوراس کا مقصد ایک ایسے شخص کو بدنام کرنا ہے، جومحض ملزم ہے اورابھی تک کسی عدالت نے اسے مجرم نہیں قراردیا ہے۔ مزید برآں مذکورہ شخص محض منی لانڈرنگ کے کیس میں ملزم گردانا گیا ہے، اسے دہشت گردی کی تبلیغ یا فنڈنگ کا ملزم نہیں گردانا گیا ہے۔


دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹرظفرالاسلام خان نے نیوز 18 اردو سے فون پربات کرتے ہوئے کہا کہ یہ میں نے یہ خبرخود پڑھی، جس کے بعد مجھے انتہائی افسوس ہوا کہ صحافت کے معیار کوکس طرح سے پراگندہ کردیا گیا ہے اورخبرکو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ ڈاکٹرظفرالاسلام خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ابھی ہم نے نوٹس جاری کیا ہے۔ 11 فروری تک کا وقت ہے، جواب کا انتظارکریں گے اوراس کے بعد پھرآگے کا فیصلہ کریں گے۔

اقلیتی کمیشن کے ذریعہ بھیجی گئی نوٹس میں ایڈیٹرکو ہدایت دی گئی ہے کہ کمیشن کو باخبر کریں کہ اخبار نے کس طرح یہ رائے قائم کی کہ ڈاکٹر ذاکر نائک ’’دہشت گردی کے سلفی مبلغ‘‘ ہیں۔ نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر یہ غلطی کسی ضرورت سے زیادہ پرجوش صحافی کا کارنامہ ہے تواخبار ایک تصحیح شائع کردے کہ ڈاکٹرذاکر نائک صرف منی لانڈرنگ کے ایک مبینہ کیس میں ملزم ہیں اوراس شائع شدہ تصحیح کی کاپی کمیشن کو دے دی جائے۔ جواب دینے کے لئے کمیشن نے ایڈیٹر پائینیرکو 11 فروری 2019 تک کا وقت دیا ہے۔
First published: Jan 29, 2019 08:27 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading