ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سی اےاے احتجاج: دریاگنج تشدد معاملے میں پولیس نے 15 لوگوں کو کیا گرفتار، 8 نابالغ سمیت 40 حراست میں

پولیس نے سنیچر کو بتایا کہ ان پر فساد کرنے اور پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی نبھانے سے روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کرنے کاالزام لگایا ہے۔ پولیس کے ،طابق مظاہرین نے جمعے کی شام کو سبھاش مارگ علاقے میں کھڑی ایک نجی کار کو آگ لگادی تھی۔ آگ پر فوراً قابو پا لیا گیا تھا۔

  • Share this:

نئی دہلی: شہریت ترمیمی قانون سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں دہلی کے دریا گنج میں مظاہرین نے جم کر ہنگامہ کیا۔ اس مظاہرے کے دوران پولیس نے 15 لوگوں کو گرفتار میں لے لیا ہے۔ جبکہ 40 لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ حراست میں لئے گئے لوگوں میں 8 نابالغ بتائے جارہے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ مظاہرین، وکیلوں اور ڈاکٹروں کی بھیڑ تھانے کے باہر جمع ہو جانے کے بعد جمعے کی دیر رات کچھ نابالغوں کو رہا کردیا گیا۔ حالانکہ یہ اب تک واضح نہیں ہے کہ حراست میں لئے گئے تمام لوگوں کو رہا کردیا گیا یا نہیں۔


پولیس نے سنیچر کو بتایا کہ ان پر فساد کرنے اور پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی نبھانے سے روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کرنے کاالزام لگایا ہے۔ پولیس کے ،طابق مظاہرین نے جمعے کی شام کو سبھاش مارگ علاقے میں کھڑی ایک نجی کار کو آگ لگادی تھی۔ آگ پر فوراً قابو پا لیا گیا تھا۔

حراست میں لئے گئے لوگوں کو دریاگنج پولیس اسٹیشن کے اندر رکھا گیا تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ تقریبا 3 گھنٹے تک کسی سے بھی ملنے نہیں دیا گیا جس کے بعد کئی مظاہرین اور وکیلوں نے پولیس اسٹیشن کو گھیر لیا اس کے ساتھ ہی مظاہرین اور وکیلوں نے مانگ کی کہ انہیں حراست میں لئے گئے لوگوں سے  بات کرنے کی اجازت دی جائے۔ غور طلب ہے کہ جے این یو کے سابق اسٹوڈینٹ عمر خالد ان لوگوں میں شامل ہیں جو حراست میں لئے گئے لوگوں کی رہائی کی مانگ


(بھاشا ان پٹ کے ساتھ)
First published: Dec 21, 2019 11:40 AM IST