ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی تشدد: ہائی کورٹ نےآدھی رات کوسماعت کی، پولیس کو زخمیوں کےعلاج اور سکیورٹی کی دی ہدایت

مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں کے ڈاکٹروں کی ایک تنظیم نے پولیس سکیورٹی کیلئے منگل کی دیر رات کو دہلی ہائی کورٹ(Delhi High Court) کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

  • Share this:
دہلی تشدد: ہائی کورٹ نےآدھی رات کوسماعت کی، پولیس کو زخمیوں کےعلاج اور سکیورٹی کی دی ہدایت
مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں کے ڈاکٹروں کی ایک تنظیم نے پولیس سکیورٹی کیلئے منگل کی دیر رات کو دہلی ہائی کورٹ(Delhi High Court) کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

نئی دہلی: مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں کے ڈاکٹروں کی ایک تنظیم نے پولیس سکیورٹی کیلئے منگل کی دیر رات کو دہلی ہائی کورٹ(Delhi High Court)  کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ یہ تنظیم شمال مشرقی دہلی کے تشدد سے متاثر علاقے مصطفی آباد علاقے  میں تشدد سے زخمی ہونے والے افراد کو میڈیکل سہولیات فراہم کرنا چاہتی ہے۔ اس ادارے نے ایک درخواست دائر کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ تشدد سے متاثر علاقوں میں ڈاکٹروں ،میڈیکل ملازم اور ایمبولینس کو پولیس سکیورٹی دی جائے۔


کورٹ 'کنسرین سٹیزن فار پیس' کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ اس میں ڈاکٹر اورڈوکیومینٹری فلم ساز راہل رائے شامل تھے جنہوں نے دہلی حکومت اور دہلی پولیس کو الہند اسپتال سمیت تشدد سے متاثر علاقے میں سفر کے دوران ان کی سکیورٹی کرنے کیلئے حفاظت کو یقینی بنائیں۔


منگل کی آدھی رات کو جج کی رہائش گاہ پر عدالت لگی اور معاملے کی سماعت کی گئی۔ جسٹس ایس۔ مرلی دھر اور جسٹس اے جے۔ بھمبھانی نے مصطفی آباد کے الہند اسپتال سے زخمیوں کو فوری طور پر نکالنے کا حکم دیا۔ فائرنگ سے مبینہ طور پر زخمی ہونے والے افراد طبی امداد کے منتظر ہیں۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ زخمیوں کو جی ٹی بی یا قریبی اسپتالوں میں لے جایا جانا چاہئے جہاں ان کے پاس علاج معالجے کی مناسب سہولیات موجود ہیں۔ دہلی حکومت کے وکیل سنجے گھوش اور دہلی پولیس کے عہدیدار نے عدالت کو یقین دلایا کہ زخمیوں کو بہتر علاج فراہم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

First published: Feb 26, 2020 09:40 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading