உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سینٹرل وسٹان پروجیکٹ پر روک لگانے والی عرضی خارج، ہائی کورٹ نے کہہ ڈالی یہ بڑی بات

    دہلی ہائی کورٹ ے مرکزی حکومت کو بڑی راھت دیتے ہوئے کہا کہ پرویجیکٹ پر کام چلتا رہے گا اور روک والی عرضی کو خارج کر دیا۔

    دہلی ہائی کورٹ ے مرکزی حکومت کو بڑی راھت دیتے ہوئے کہا کہ پرویجیکٹ پر کام چلتا رہے گا اور روک والی عرضی کو خارج کر دیا۔

    دہلی ہائی کورٹ ے مرکزی حکومت کو بڑی راھت دیتے ہوئے کہا کہ پرویجیکٹ پر کام چلتا رہے گا اور روک والی عرضی کو خارج کر دیا۔

    • Share this:
      سینٹرل وسٹا پروجکٹ Central Vista Redevelopment Work پر روک لگانے والی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ Delhi High Court  نے آج اس معاملے پر اپنافیصلہ سنایا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ ے مرکزی حکومت کو بڑی راھت دیتے ہوئے کہا کہ پرویجیکٹ پر کام چلتا رہے گا اور روک والی عرضی کو خارج کر دیا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ یہی قومی اہمیت سے متعلق ایک بہت اہم پروجیکٹ ہے۔ اسے الگ رکھ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔

      اتنا ہی نہیں ہائی کورٹ نے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ پر روک لگانے والی عرضی داخل کرنے والے عرضداش پر ایک لاکھ روپئے کا جرمانہ بھی لگایا ہے۔ عرضداش نے کورونا وبا کی بنیاد بناکر روک لگانے کی مانگ عرضی میں کی گئی تھی۔ ہائی کورٹ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جیوتی سنگھ کی بینچ نے عرضی خارج کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا ہے۔

      واضح ہو کہ دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی تھی۔جس میں زور دے کر کہاگیاتھا کہ کوروناکے اس پرآشوب دور میں کسی بھی ایسے پروجیکٹ کو آگےبڑھانے کی منظوری نہیں دینی چاہیے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ایک پروجیکٹ کی وجہ سے کئی لوگوں کی جان خطرے میں آرہی تھی۔ واضح ہو کہ دہلی میں نئے پارلیمنٹ کی تعمیر کی تیاری زوروں پر چل رہی ہے۔ اس سینٹرل وسٹا پروجکٹ کے حوالے سے مرکز کی جانب سے بیس ہزار کروڑ خرچ کئے جارہے ہیں۔ لیکن اپوزیشن کی جانب سے اس تعمیراتی کام پر روک لگانے کا مسلسل دباؤ بنایا جارہا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: