உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اہم خبر: دہلی وقف بورڈ نے پرائیویٹ مسجدوں کے اماموں کو دی تنخواہ 

    اہم خبر: دہلی وقف بورڈ نے پرائیویٹ مسجدوں کے اماموں کو دی تنخواہیں 

    اہم خبر: دہلی وقف بورڈ نے پرائیویٹ مسجدوں کے اماموں کو دی تنخواہیں 

    تفصیلات کے مطابق نومنتخب چیئرمین امانت اللہ خان نے 11ماہ سے تنخواہ کے منتظر اسٹاف اور ائمہ حضرات کو تنخواہوں کے چیک حوالے کرتے ہوئے کہا کہ مبارک ہو آپ کے کھاتوں میں تنخواہیں پہنچ گئی ہیں۔ تنخواہوں کے چیک ملنے سے وقف بورڈ کے اسٹاف اور ائمہ حضرات کے چہروں پر خوشی کی لہر ہے۔

    • Share this:
    نئی دہلی۔ دہلی وقف بورڈ نے متنازعہ سیاسی پروجیکٹ کے طور پر دیکھے گئے پرائیویٹ مسجدوں کے اماموں کو ایک بار پھر تنخواہ جاری کی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ دہلی وقف بورڈ کے تقریبا ایک سو تیس ملازمین کی سیلری بھی جاری کی گئی ہے۔ یہ تنخواہیں تقریبا گیارہ مہینوں کے بعد جاری کی گئی ہیں۔ اس سے قبل دہلی وقف بورڈ کے ملازمین سیلری کے مطالبہ کو لے کر احتجاج بھی کر چکے تھے۔

    تفصیلات کے مطابق نومنتخب چیئرمین امانت اللہ خان نے 11ماہ سے تنخواہ کے منتظر اسٹاف اور ائمہ حضرات کو تنخواہوں کے چیک حوالے کرتے ہوئے کہا کہ مبارک ہو آپ کے کھاتوں میں تنخواہیں پہنچ گئی ہیں۔ تنخواہوں کے چیک ملنے سے وقف بورڈ کے اسٹاف اور ائمہ حضرات کے چہروں پر خوشی کی لہر ہے۔ چیک جاری کرتے ہوئے امانت اللہ خان نے کہا کہ دہلی اسمبلی کے الیکشن کے بعد سے ہی وقف بورڈ میں چیئرمین کا عہدہ خالی ہوگیا تھاجس کے بعد تکنیکی بنیاد پر پریشانیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور تنخواہیں رک گئیں۔ تاہم ہماری حکومت اور وزیر اعلی اروند کیجریوال کی نیک نیتی کے باعث معاملات حل کرنے میں مدد ملی۔

    امانت اللہ خان نے کہا کہ وقف بورڈ کے اکاؤنٹ میں پیسہ تھا تاہم افسران کی نیت صاف نہیں تھی جس کی وجہ سے تاخیر ہوتی چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم نے تمام رکی ہوئی تنخواہیں جاری کردی ہیں۔ وقف بورڈ کے تمام اسٹاف کی تنخواہوں کے ساتھ ساتھ ائمہ حضرات کی تنخواہیں بھی جاری کردی گئی ہیں۔ ایک دو دن میں سب کے کھاتوں میں تنخواہیں پہنچ جائیں گی۔ امانت اللہ خان نے آگے کہا کہ وزیر اعلی اروند کیجریوال وقف بورڈ میں تنخواہیں رکنے سے ہونے والی دقتوں سے باخبر تھے اور ان کی مسلسل کوشش تھی کہ جلد سے جلد یہ مسئلہ حل ہو۔ امانت اللہ خان نے کہا کہ وزیر اعلی نے آج ہی ملاقات کے دوران مجھ سے کہا کہ تنخواہیں آج ہی جاری کردی جائیں اور اب مزید تاخیر نہ کی جائے۔

    غور طلب ہے کہ دہلی اسمبلی کے انتخابات کے بعد سے ہی وقف بورڈ میں چیئرمین کا عہدہ خالی ہو گیا تھا جس کے بعد وقف بورڈ کے عملہ اور وقف بورڈ سے وابستہ ائمہ اور مؤذنین کی تنخواہیں اور وطائف رک گئے۔ تنخواہیں رکنے سے ہونے والی پریشانیوں سے مجبور ہوکر وقف بورڈ کا عملہ ہڑتال پر چلاگیا تھا جس کے بعد امانت اللہ خان نے جلد سے جلد تنخواہیں جاری ہونے کا بھروسہ دلاتے ہوئے وقف بورڈ عملے کا احتجاج ختم کرایا تھا۔ تاہم امانت اللہ خان کے تیسری مرتبہ دہلی وقف بورڈ کا چیئرمین منتخب ہونے کے بعد بھی سائننگ اتھارٹی تبدیل کرنے میں ہونے والی تاخیر کے سبب تنخواہیں جاری کرنے میں تاخیر ہوتی چلی گئی اور وقف بورڈ کا پورا عملہ مایوس نظر آنے لگا۔ پھر بھی عملہ نے وقف بورڈ میں کام جاری رکھا اور آج جب پورے 11ماہ کی رکی ہوئی تنخواہیں جاری کردی گئی ہیں اور انھیں اپنے موبائل پر تنخواہ جاری ہونے کے پیغامات موصول ہونے شروع ہوگئے ہیں تو وقف بورڈ کے عملہ کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا۔

    واضح رہے کہ تقریبا دہلی وقف بورڈ کے تحت 130 افراد کا عملہ کام کرتا ہے جب کہ وقف بورڈ کے تحت مساجد کے اماموں اور مؤذنوں کی تعداد تقریبا 230 ہے۔ گزشتہ سال الیکشن سے پہلے اماموں کی تنخواہ میں اضافہ کیا تھا۔ اسی وقت پرائیویٹ مسجدوں کے اماموں کو بھی سیلری دینے کا پروجیکٹ سامنے آیا تھا۔ سروے کرایا گیا تھا اور تقریبا پرائیویٹ مسجدوں کے 2200 امام اور موذن ہیں جن کو 16000 اور 14000 روپئے تنخواہ جاری کی گئی ہے۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: