உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خواتین اوردوپہیہ گاڑیوں کو دی گئی چھوٹ پر دہلی حکومت سے جواب طلب

    نئی دہلی۔  دہلی ہائی کورٹ نے پہلی جنوری سے دارالحکومت میں نافذ ہونے والے طاق و جفت کار نمبر کے پلان سے وکلاء کو چھوٹ دینے کی درخواست آج مسترد کر دی۔

    نئی دہلی۔ دہلی ہائی کورٹ نے پہلی جنوری سے دارالحکومت میں نافذ ہونے والے طاق و جفت کار نمبر کے پلان سے وکلاء کو چھوٹ دینے کی درخواست آج مسترد کر دی۔

    نئی دہلی۔ دہلی ہائی کورٹ نے پہلی جنوری سے دارالحکومت میں نافذ ہونے والے طاق و جفت کار نمبر کے پلان سے وکلاء کو چھوٹ دینے کی درخواست آج مسترد کر دی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  دہلی ہائی کورٹ نے پہلی جنوری سے دارالحکومت میں نافذ ہونے والے طاق و جفت کار نمبر کے پلان سے وکلاء کو چھوٹ دینے کی درخواست آج مسترد کر دی۔ عدالت نے اس کے ساتھ ہی نئے نظام میں خواتین اوردوپہیہ گاڑیوں کو دی گئی چھوٹ پر بھی دہلی حکومت سے جواب طلب کیا اور تین دن کے اندر اس کا جواب دینے کو کہا ہے۔ معاملے کی آئندہ سماعت 06 جنوری کو ہوگی۔


      وکلاء نے خواتین اور دو پہیہ گاڑیوں کو طاق و جفت منصوبے کے تحت ملی چھوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے اپنے لئے بھی رعایت کی اپیل کی تھی۔ عدالت دارالحکومت میں فضائی آلودگی کی پوزیشن کو خطرناک بتاتے ہوئے پہلے ہی یہ تبصرہ دے چکی ہے کہ دہلی گیس چیمبر بن چکا ہے۔ اس نے اس سے نمٹنے کے لئے دہلی حکومت کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات بھی جاری کی تھیں۔ جس کے بعد حکومت نے ہنگامی منصوبوں کے تحت یکم جنوری سے 15 جنوری تک دارالحکومت کی سڑکوں پر پرائیویٹ گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کے لئے طاق و جفت اسکیم نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔


      عوامی مخالفت کے پیش نظر بعد میں، حکومت نے اعلان کیا کہ اس کا منصوبہ فی الحال صرف ٹیسٹ کے لئے ہے۔ اس کے تحت حکومت نے متعدد طبقات کو چھوٹ دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ خواتین اور معذور افراد سمیت کئی آئینی عہدوں اور ایمرجنسی سروس کے لئے منصوبے میں چھوٹ کا انتظام کیا گیا ہے۔


      دارالحکومت میں اس وقت تقریبا 88 لاکھ گاڑیاں ہیں جس میں ہر روز تقریبا 1،400 نئی گاڑیاں بھی اس بھیڑ میں شامل ہو جاتی ہیں۔

      First published: