ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی پولیس نے دہلی ہائی کورٹ میں کہا - سی اے اے کے خلاف مظاہروں کی ویڈیو کے لئے درخواست ناقابل سماعت 

دہلی ہائی کورٹ میں وکیل آدتیہ پجاری اور کنال نیگی کے ذریعہ دائر درخواست میں کلیتا نے سی اے اے کیخلاف احتجاج کی ویڈیو اور پولیس کے پاس رکھے گئے دیگر الیکٹرانک ڈیٹا کی ایک کاپی فراہم کرنے کی درخواست کی ہے جو چارج شیٹ کے ساتھ ساتھ داخل کی گئی تھی۔

  • Share this:
دہلی پولیس نے دہلی ہائی کورٹ میں کہا - سی اے اے کے خلاف مظاہروں کی ویڈیو کے لئے درخواست ناقابل سماعت 
پچھلے سال 24 فروری کو شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے بعد فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے، جس میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

دہلی پولیس نے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ میں جے این یو کی طالبہ  اور پنجراتوڑ گروپ کی کارکن کی جانب سے ویڈیو فراہم کرانے کی درخواست کے معاملے میں عجیب و غریب موقف سامنے رکھا گیا ہے۔ دراصل شمالی مشرقی دہلی میں فسادات کی ملزم دیوانگانا کلیتا کے شہریت ترمیمی بل کے خلاف مظاہروں کی ویڈیو کی نقل مانگ کی گئی تھی جس کے جواب میں دہلی پولیس  نے اپنا موقف رکھتے ہوئے کہا کہ یہ عرضی قابل سماعت نہیں ہے۔


دہلی پولیس کی جانب سے دہلی ہائی کورٹ میں پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایس بی راجو نے یہ موقف اختیار کیا۔ انہوں نے جسٹس سریش کیت کے سامنے درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں کا سوال اٹھایا۔ انہوں نے ایسا کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ میں کہا کہ عرضی قابل سماعت نہیں ہے۔جس پر عدالت کی جانب سے دہلی پولیس سے ایک ہفتہ میں حلف نامہ داخل کرنے کے لئے کہا ہے کہ درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں۔  دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے کی سماعت 4 فروری کو مقرر کردی ہے۔


دہلی ہائی کورٹ میں وکیل آدتیہ پجاری اور کنال نیگی کے ذریعہ دائر درخواست میں کلیتا نے سی اے اے کیخلاف احتجاج کی ویڈیو اور پولیس کے پاس رکھے گئے دیگر الیکٹرانک ڈیٹا کی ایک کاپی فراہم کرنے کی درخواست کی ہے جو چارج شیٹ کے ساتھ ساتھ داخل کی گئی تھی۔ کلیتا  غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ یو اے پی اے کے تحت عدالتی تحویل میں ہیں۔ لیکن اسے جعفرآباد کے علاقے میں ہونے والے فسادات کے سلسلے میں عدالت سے ضمانت مل گئی۔ پچھلے سال 24 فروری کو شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون  کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے بعد فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے، جس میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔


غور طلب ہے کہ کسی بھی مقدمہ میں ملزم  کو الزامات اور شواہد کی نقل فراہم کرائی جاتی  ہے جس کی بنیاد پر دلیلوں اور شواہد کے ذریعے عدالت میں وکیل اپنے مؤکل کا دفاع کرتا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 15, 2021 10:17 PM IST