உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پولیس میں رشوت کا ثبوت دیا تو استعفی دے دوں گا : بسی

    نئی دہلی: دہلی کے پولیس کمشنر بی ایس بسی نے اپنے محکمے پر لگائے جانے والے بدعنوانی کے الزامات کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے آج واضح طورپر کہا کہ اگر ایف آئی آر درج کرانے میں رشوت کا ایک بھی ثبوت پیش کیا گیا تو وہ عہدے سے استعفی دیں گے۔

    نئی دہلی: دہلی کے پولیس کمشنر بی ایس بسی نے اپنے محکمے پر لگائے جانے والے بدعنوانی کے الزامات کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے آج واضح طورپر کہا کہ اگر ایف آئی آر درج کرانے میں رشوت کا ایک بھی ثبوت پیش کیا گیا تو وہ عہدے سے استعفی دیں گے۔

    نئی دہلی: دہلی کے پولیس کمشنر بی ایس بسی نے اپنے محکمے پر لگائے جانے والے بدعنوانی کے الزامات کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے آج واضح طورپر کہا کہ اگر ایف آئی آر درج کرانے میں رشوت کا ایک بھی ثبوت پیش کیا گیا تو وہ عہدے سے استعفی دیں گے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی: دہلی کے پولیس کمشنر بی ایس بسی نے اپنے محکمے پر لگائے جانے والے بدعنوانی کے الزامات کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے آج واضح طورپر کہا کہ اگر ایف آئی آر درج کرانے میں رشوت کا ایک بھی ثبوت پیش کیا گیا تو وہ عہدے سے استعفی دیں گے۔


      لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر بسی نے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے دہلی پولیس کے بدعنوانی میں ملوث بتائے جانے سے متعلق سوال پر کہاکہ وہ ہماری فکر چھوڑیں۔ ہم اپنا کام خود کر لیں گے۔وہ اپنا کام کریں۔


      مسٹر کیجریوال نے بدعنوانی پر آئے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ سروے میں حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں۔اس میں دہلی پولیس کو سب سے زیادہ بدعنوان بتایا گیا ہے۔ اس لئے مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ دہلی پولیس کو ریاستی حکومت کے تحت کر دے۔


      پولیس کمشنر مسٹر بسی نے کہا کہ بار بار یہ کہنا کہ دہلی پولیس قانون برقرار رکھنے میں نااہل ہے، صحیح نہیں ہے۔ اس طرح کے الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایف آئی آر دراج کرانے کے لئے پولیس کو رشوت دینی پڑتی ہے۔ اگر اس طرح کے ایک بھی واقعہ میں ر ثبوت لینے کا ثبوت پیش کیا گیا تو وہ اپنے عہدے سے استعفی دے دیں گے۔


      انہوں نے اس موقع پر یہ اطلاع بھی دی کہ پولیس لوگوں کی مدد کے لئے ایک نئی ہیلپ لائن سروس جلد شروع کرنے جا رہی ہے جس پر کوئی بھی پولیس میں بدعنوانی سے متعلق کسی بھی معاملے کاآڈیو یا ویڈیو بھیج سکتا ہے۔ تحقیقات میں اگر یہ درست پایا گیا تو اسے بھیجنے والے کو 25 ہزار روپے کا انعام دیا جائے گا۔


      خیال رہے کہ شہر میں حال ہی میں بچیوں کی عصمت دری کے واقعات کے بعد سے دہلی پولیس ایک بار پھر وزیر اعلی کے نشانے پر ہے۔ اس درمیان ایک غیر سرکاری تنظیم سی ایم ایس اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے آئی سروے رپورٹ میں دہلی پولیس کو دارالحکومت میں پبلک سروس محکمہ کا "سب سے بدعنوان محکمہ بتائے جانے سے وزیر اعلی کو پولیس کے خلاف بولنے کا ایک اور موقع مل گیا ہے۔

      First published: