ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ کے بے قصور طلباء کی گرفتاری سے دہلی پولیس اپنی معتبریت کھو رہی ہے: کنور دانش علی

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جامعہ میں احتجاج کی قیادت کر نے والے بہت سے طالب علموں کو لاک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا ہے اور ان سب پر شمال مشرقی دہلی میں تشدد کی سازش کا الزام لگایا گیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: May 22, 2020 03:15 PM IST
  • Share this:
جامعہ کے بے قصور طلباء کی گرفتاری سے دہلی پولیس اپنی معتبریت کھو رہی ہے: کنور دانش علی
فائل فوٹو

نئی دہلی۔ بہوجن سماج پارٹی کے لیڈر اور لوک سبھا کے ممبر پارلیمنٹ کنور دانش علی نے کہا ہے کہ شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف پرامن اور جمہوری طریقے سے احتجاج کرنے والے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بے قصور طلباء کی گرفتاری اور انہیں ہراساں کر کے دہلی پولیس اپنی معتبریت کھو رہی ہے۔ دانش علی نے جمعہ کو ٹوئیٹ کرکے کہا کہ جمہوری طریقے سے مظاہرہ کرنے والے بے گناہ طالب علموں کو ہی دہلی میں تشدد بھڑکانے اور نفرت کا ماحول بنانے کا اصل مجرم مان کر انہیں گرفتار اور ہراساں کرنے سے دہلی پولیس تیزی سے اپنی معتبریت کھو رہی ہے۔


غور طلب ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جامعہ میں احتجاج کی قیادت کر نے والے بہت سے طالب علموں کو لاک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا ہے اور ان سب پر شمال مشرقی دہلی میں تشدد کی سازش کا الزام لگایا گیا ہے۔ ان طلباء پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام قانون کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔

دہلی تشدد معاملے میں جامعہ کے ریسرچ اسکالر میران حیدر، صفورہ زرگر، آصف اقبال تنہا اور الومنی ایسوسی ایشن آف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر شفاء الرحمان خان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان طلباء پر بغاوت، قتل، قتل کی کوشش، مذہب کی بنیاد پر مختلف گروپوں کے درمیان نفرت کو فروغ دینے اور فسادات کے جرائم کے لئے بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔



قابل ذکر ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے حامیوں اور اس کی مخالفت کرنے والوں کے درمیان شمال مشرقی دہلی میں 23 سے 26 فروری کے درمیان تشدد ہوا تھا جس میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔
First published: May 22, 2020 03:15 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading