اپنا ضلع منتخب کریں۔

    دہلی پولیس کا شمال مشرقی علاقوں اور جامعہ تشدد کی غیر جانبدارانہ جانچ کا دعویٰ

    جامعہ تشدد: فائل فوٹو

    جامعہ تشدد: فائل فوٹو

    گزشتہ دنوں جامعہ میں سی اے اے کے خلاف فعال کردار ادا کرنے والے دو طلباء کی گرفتاری پر مختلف یونیورسٹیوں کے ٹیچرز ایسوسی ایشنز اور دیگر سماجی تنظیموں نے اس کی تنقید کرتے ہوئے طالب علموں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف تحریک میں شامل افراد کی گرفتاریوں پر مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے اٹھ رہے سوالوں کے درمیان پیر کو دہلی پولیس نے واضح کیا کہ شمال مشرقی دہلی تشدد اور جامعہ میں ہو نے والے تشدد کی تفتیش منصفانہ طریقے سے کی جا رہی ہے۔
      دہلی پولیس نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ شمال مشرقی دہلی اور جامعہ تشدد کی تحقیقات ایمانداری اور منصفانہ طریقے سے کی جا رہی ہے۔ تشدد زدہ علاقوں سے ملے ویڈیو فوٹیج اور ثبوتوں کے سائنسی تجزیہ کے بعد ہی گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

      انہوں نے کہا کہ شمال مشرقی دہلی میں فسادات کی سازش کرنے والے قصورواروں کو قانون کے تحت سزا دلانے کے ساتھ ساتھ بے قصوروں کو انصاف دلانے کے لئے دہلی پولیس مصروف عمل ہے۔ کچھ لوگ حقائق کو توڑ مروڑ کر جھوٹے پروپیگنڈا اور افواہوں کو پھیلانے کا کام کر رہے ہیں اس سے پولیس کی تحقیقات پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ پولیس امن وامان ، خد مت اور انصاف کے لئے مسلسل اور بغیر رکے اپنا کام کرتی رہے گی۔


      قابل غور ہے گزشتہ دنوں جامعہ میں سی اے اے کے خلاف فعال کردار ادا کرنے والے دو طلباء کی گرفتاری پر مختلف یونیورسٹیوں کے ٹیچرز ایسوسی ایشنز اور دیگر سماجی تنظیموں نے اس کی تنقید کرتے ہوئے طالب علموں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران جان بوجھ کر لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: