உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    صورتحال انتہائی سنگین، کوئی بیک اپ بھی نہیں، دہلی میں بجلی بحران پر کیجریوال حکومت کا ایک اور الرٹ

    Power crisis in Delhi: وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اور ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی وزیر ستیندر جین نے کہا کہ بجلی کے حوالے سے کوئی بیک اپ نہیں ہے۔

    Power crisis in Delhi: وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اور ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی وزیر ستیندر جین نے کہا کہ بجلی کے حوالے سے کوئی بیک اپ نہیں ہے۔

    Power crisis in Delhi: وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اور ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی وزیر ستیندر جین نے کہا کہ بجلی کے حوالے سے کوئی بیک اپ نہیں ہے۔

    • Share this:
      Power crisis in Delhi: دہلی میں ایک طرف گرمی پریشان کررہی ہے تو دوسری طرف بجلی بحران نے لوگوں کو خوفزدہ کردیا ہے۔ بڑھتی گرمی کے درمیان دہلی میں بجلی کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اور کوئلے کی قلت کی وجہ سے بجلی کا بحران بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ دہلی حکومت نے پہلے ہی میٹرو ٹرینوں اور اسپتالوں سمیت اہم اداروں کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال سے لے کر وزیر ستیندر جین تک مسلسل مرکز سے بجلی بحران پر ٹھوس قدم اٹھانے کی درخواست کر رہے ہیں۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اور ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی وزیر ستیندر جین نے کہا کہ بجلی کے حوالے سے کوئی بیک اپ نہیں ہے۔

      ملک بھر میں جاری بجلی بحران کے بارے میں اروند کیجریوال نے ایک ٹویٹ کیا اور کہا، 'ملک بھر میں بجلی کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اب تک ہم دہلی میں کسی نہ کسی طریقے سے منظم ہیں۔ پورے ہندوستان میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ہم سب کو مل کر جلد اس کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

      مسجد نبوی میںShahbaz Sharifکودیکھتےہی 'چور۔چور'کے لگنےلگے نعرے، سعودی حکومت خفا، 100گرفتار



      یہ بھی پڑھئے: شاہین باغ:100کروڑ کی ڈرگس کاپردہ فاش،ملک مخالف مظاہروں سےجڑےہوسکتےہیں تار، NCBکی جانچ جاری

      شدید گرمی اور کوئلے کی قلت کی وجہ سے ملک کی کئی ریاستوں میں بجلی کا بحران گہرا ہو گیا ہے۔ ریاستیں بجلی کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔جموں و کشمیر سے لے کر آندھرا پردیش تک دو گھنٹے سے لے کر آٹھ گھنٹے تک بجلی میں کٹوتی کی جارہی ہے ۔ بجلی کٹوتی سے فیکٹریاں سب سے زیادہ متاثر ہورہی ہیں۔وہیں راجستھان میں آج وزیر اعلی اشو ک گہلوت جائزہ میٹنگ کرنے والے ہیں ۔میٹنگ میں بجلی کٹوتی اور واٹر سپلائی جیسے معاملے زیر بحث ہوں گے۔ خیال رہے کہ ملک میں ستر فیصد بجلی کوئلہ سے پیدا کی جاتی ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: