உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی میں بجلی بحران کی آہٹ ، سنبھل کر جلائیں بتی ، کیجریوال کا وزیر اعظم کو خط، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    دہلی میں بجلی بحران کی آہٹ ، سنبھل کر جلائیں بتی ، کیجریوال کا وزیر اعظم کو خط، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    دہلی میں بجلی بحران کی آہٹ ، سنبھل کر جلائیں بتی ، کیجریوال کا وزیر اعظم کو خط، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    Delhi Power Crisis: دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط تحریر کرکے راجدھانی دہلی کو بجلی کی سپلائی کرنے والے بجلی پلانٹوں کے لئے کافی کوئلہ اور گیس دینے کے لئے وزیراعظم کے دفتر سے مداخلت کرنے کی درخواست کی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی : دہلی والوں کو بجلی کی قلت کی شکل میں ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ملک میں کوئلے کی شدید قلت کے باعث قومی دارالحکومت میں کٹوتیوں کا دور شروع ہو گیا ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جب لوگ کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند پڑی معاشی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کر رہے ہیں اور تہواروں کے موسم کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں ، اروند کیجریوال کی زیرقیادت دہلی حکومت کی طرف سے بجلی کی کٹوتی کی وارننگ ان کیلئے پریشانی پیدا کرسکتی ہے۔

      دراصل دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط تحریر کرکے راجدھانی دہلی کو بجلی کی سپلائی کرنے والے بجلی پلانٹوں کے لئے کافی کوئلہ اور گیس دینے کے لئے وزیراعظم کے دفتر سے مداخلت کرنے کی درخواست کی ہے۔ وزیر اعلی کیجریوال نے ہفتہ کو کہا کہ دہلی کو بجلی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ میں ذاتی طورپر گہری نظر رکھ رہا ہوں۔ ہم اس سے بچنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ اس درمیان میں نے عزت ماب وزیراعظم کو خط لکھ کر ان کی ذاتی مداخلت کی مانگ کی ہے۔


      انہوں نے کہا کہ بجلی پلانٹوں میں اگست ستمبر کے مہینے سے کوئلے کی کمی ہونے لگی ہے لیکن اب بحران بڑھ گیا ہے۔ وزیراعظم کو لکھے گئے خط کے مطابق دہلی کو بجلی کی سپلائی کرنے والے این ٹی پی سی دادری 2 پلانٹ میں ایک دن کا کوئلہ باقی ہے۔ اسی طرح جھجر، ڈی وی سی(سی ٹی پی ایس) میں ایک دن کا کوئلہ باقی ہے جبکہ میزیا پلانٹ میں کوئلہ ختم ہوچکا ہے۔ سنگرولی پلانٹ میں چار دن کا کوئلہ باقی ہے۔

      انہوں نے کہا کہ کوئلہ کے بحران کو حل نہیں کیا گیا توضروری خدمات پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔

      نیوز ایجنسی یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ ۔ 
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: