உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Delhi Riots: مہینوں سے جیل میں قید اشرف اور پرویز عدالت سے باعزت بری 

    مقدمہ کے جج ویرندر بھٹ نے اپنے فیصلے میں تمام حقائق و شواہد کے مطالعے کے بعد لکھا ہے کہ ان دونوں ملزموں کے خلاف صرف ایک گواہ اجیت کمار ہے، عدالت کسی ایسے مقدمے میں جس میں بھیڑ نے لوٹ مار اور آگ زنی کے واقعات انجام دیے ہوں، کسی ایک گواہ کی بنیاد پر کسی کو مجرم نہیں ٹھہرا سکتی۔ اس سلسلے میں باضابطہ سپریم کورٹ کی ہدایت موجود ہے۔

    مقدمہ کے جج ویرندر بھٹ نے اپنے فیصلے میں تمام حقائق و شواہد کے مطالعے کے بعد لکھا ہے کہ ان دونوں ملزموں کے خلاف صرف ایک گواہ اجیت کمار ہے، عدالت کسی ایسے مقدمے میں جس میں بھیڑ نے لوٹ مار اور آگ زنی کے واقعات انجام دیے ہوں، کسی ایک گواہ کی بنیاد پر کسی کو مجرم نہیں ٹھہرا سکتی۔ اس سلسلے میں باضابطہ سپریم کورٹ کی ہدایت موجود ہے۔

    مقدمہ کے جج ویرندر بھٹ نے اپنے فیصلے میں تمام حقائق و شواہد کے مطالعے کے بعد لکھا ہے کہ ان دونوں ملزموں کے خلاف صرف ایک گواہ اجیت کمار ہے، عدالت کسی ایسے مقدمے میں جس میں بھیڑ نے لوٹ مار اور آگ زنی کے واقعات انجام دیے ہوں، کسی ایک گواہ کی بنیاد پر کسی کو مجرم نہیں ٹھہرا سکتی۔ اس سلسلے میں باضابطہ سپریم کورٹ کی ہدایت موجود ہے۔

    • Share this:
    نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی فسادات کے اصل مجرموں تک دہلی پولس کی رسائی ہوپائی ہو یا نہ ہو پائی ہو، مگر فساد کے بعد بے قصور مسلم نوجوانوں کی ایک طویل فہرست ہے جو جیلوں میں بندرہے اور جن پر ایک ساتھ متعدد مقدمات عائد کردیے گئے۔ان میں سے ڈیرھ سو سے زائد مقدمات باضابطہ ٹرائل پر ہیں، جن کی قانونی پیروی اور کفالت جمعیۃ علماء ہند کررہی ہے۔آج جمعیۃ علماء ہند کی کوشش سے کے کے ڈی کورٹ (دہلی کورٹ) نے اپنے اہم فیصلے میں اول سماعت میں ہی اشرف ولد امین الحق چمن پارک اور پرویز ولد ریاض الدین بابو نگر(ایف آئی آر نمبر 100/2020) کو فساد بھڑکانے، لوٹ مار، آگ زنی وغیرہ کے مقدمات سے بری کردیا۔
    واضح ہو کہ پولس نے ان کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی تھی، ان پر شیو وہار کے رہنے والے پرمود کمار کی شکایت پر یکم مارچ  2020ء کو ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ شکایت کنندہ پرمود کمار فساد کے دوران پتھر بازی میں زخمی میں ہوا تھا۔ اس کا مقدمہ اے ایس آئی رکم سنگھ کو سونپی گئی تھی، جنھو ں نے اپنی انکوائری کے بعد ان پر مقدمہ طے کیا تھا۔ اس درمیان آئی او نے اس مقدمے کا ایک گواہ بھی پیش کیا تھا جس کا نام اجیت کمار تومار ہے۔
    مقدمہ کے جج ویرندر بھٹ نے اپنے فیصلے میں تمام حقائق و شواہد کے مطالعے کے بعد لکھا ہے کہ ان دونوں ملزموں کے خلاف صرف ایک گواہ اجیت کمار ہے، عدالت کسی ایسے مقدمے میں جس میں بھیڑ نے لوٹ مار اور آگ زنی کے واقعات انجام دیے ہوں، کسی ایک گواہ کی بنیاد پر کسی کو مجرم نہیں ٹھہرا سکتی، اس سلسلے میں باضابطہ سپریم کورٹ کی ہدایت موجود ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے (ملک بنام ریاست بنگال 2019ء) یہ وضاحت کی ہے کہ ایسے معاملات میں کم ازکم دو یا سے دوزائد معاون گواہ موجود ہوں۔ مذکورہ معاملے میں ایسا نہیں ہے اور نہ ہی گواہ یا شکایت کنندہ نے ان کے خلاف کوئی واضح عمل کے ارتکاب کا الزام عائد کیا ہے۔ اس لیے عدالت ان کو تمام الزامات سے بری کرتی ہے اور ان کی زر ضمانت واپس دینے کا حکم دیتی ہے۔جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے آج عدالت میں ایڈوکیٹ سلیم ملک موجود تھے، جنھوں نے اس مقدمہ کی کامیاب پیروی کی۔فیصلہ آنے پر اشرف کے والد امین الحق نے دفتر جمعیۃ علماء ہند کال کرکے ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا حکیم الدین قاسمی سے بات چیت کی اور شکریہ ادا کیا، انھوں نے کہا کہ وہ خود بیمار ہیں اور دہلی فسادات میں ان کے بیٹے پر عائد الزام نے ان کی کمر توڑ رکھی ہے، وہ ایسے مشکل وقت میں مدد کے لیے جمعیۃ علماء ہند کے صدر محترم حضرت مولانا محمود مدنی صاحب کے شکر گزار ہیں اور آپ سب لوگوں کے بھی جو مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑ ے ہوئے۔

    عدالت کے ذریعہ سے بری کیے جانے کے فیصلے پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے کافی خوشی و اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ دہلی فسادات کی انکوائری کے سلسلے میں عدالتوں نے سخت تبصرے کیے ہیں، جمعیۃ علماء ہند اول یوم سے فسادات کے مظلوموں کی مدد اور ان کی بازآبادکاری کرتی رہی ہے،جہاں تک قانونی چارہ جوئی کا مسئلہ ہے تو یہ ہمارا عزم ہے کہ جب تک بے قصور افراد بری نہ ہو جائیں،ہم ان کے لیے مقدمہ لڑتے رہے ہیں گے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ان مقدمات پر بھاری وسائل خرچ ہو تے ہیں اور ملک کا وقار بھی داؤ پر لگتا ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہماری سرکاریں اپنے انکوائری کے نظام کی اصلاح کریں اورپولس عملہ کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ قانون کے علاوہ ملزم کے دوسرے عصبیت پر مبنی علائق پر توجہ نہ دیں، تب ہی جا کر منصفانہ انکوائری ممکن ہو سکے گی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: