ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی فسادات سازش معاملہ : ہائی کورٹ کے ضمانت کے فیصلے کے خلاف دہلی پولیس کو سپریم کورٹ سے معمولی راحت

Delhi Riots : سپریم کورٹ نے ضمانت کے فیصلے کو نظیر اور بنیاد کے طور پر ٹرایل عدالتوں کے ذریعہ استعمال کیے جانے پر روک لگاتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے ۔ اب 19 جولائی کو سپریم کورٹ میں اس معاملہ کی سماعت ہوگی ۔

  • Share this:
دہلی فسادات سازش معاملہ : ہائی کورٹ کے ضمانت کے فیصلے کے خلاف دہلی پولیس کو سپریم کورٹ سے معمولی راحت
دہلی فسادات سازش معاملہ : ہائی کورٹ کے ضمانت کے فیصلے کے خلاف دہلی پولیس کو سپریم کورٹ سے معمولی راحت

نئی دہلی : دہلی میں فساد کی سازش کے ملزمان طلبہ آصف اقبال تنہا ، دیوانگنا کلیتا اور نتاشا نروال کو دلی ہائی کورٹ کے ذریعہ ملی ضمانت کے فیصلہ کے خلاف عرضی پر دہلی پولیس کو سپریم کورٹ سے تھوڑی راحت ملی ہے۔ آج سپریم کورٹ میں دہلی پولیس کی عرضی پر سماعت ہوئی ۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے دہلی پولس کی عرضی کو واجب مانتے ہوئے نوٹس جاری کیا ۔ ساتھ ہی ساتھ سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو بنیاد اور نذیر کے طور پر استعمال کرنے پر بھی روک لگا دی ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ 19 جولائی تک سماعت میں فیصلے کو بنیاد کے طور پر استعمال نہ کرے ۔


غور طلب ہے کہ منگل کے دن دہلی ہائی کورٹ نے دہلی فسادات کی سازش کے تحت یو اے پی کا سامنا کر رہے جے این یو اور جامعہ کے طلبہ کو ضمانت دے دی تھی۔ جس کے خلاف سپریم کورٹ میں دہلی پولیس نے عرضی داخل کی تھی ۔ وہیں دوسری جانب دہلی پولیس نے کڑکڑڈوما ٹرائل کورٹ میں ملزمان کی رہائی کو کچھ وقت کے لئے روکنے کی یہ کہتے ہوئے کوشش کی تھی کہ ضمانت دینے والے افراد کے ویریفکیشن کیلئے انہیں وقت کی ضرورت ہے ، لیکن ٹرائل کورٹ نے دہلی پولس کی عرضی یہ کہتے ہوئے خارج کردی کہ وہ اس معاملہ میں اپنے وسائل کا استعمال کرے ۔ ملزمان کی رہائی کو اس بنیاد پر نہیں روکا جا سکتا ۔


اس کے بعد کڑکڑڈوما ٹرائل کورٹ کے ذریعہ جے این یو طلبہ دیوانگنا کلیتا، نتاشا نروال، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم آصف اقبال تنہا کی فوری رہائی پر دہلی پولیس اور تہاڑ جیل انتظامیہ کو عملدرآمد کرنا پڑا اور قانونی داؤ پیچ کے ساتھ ساتھ تکنیکی بنیاد پر کھڑی کی گئی تمام رکاوٹوں کے باوجود تینوں ملزمان جیل سے رہا ہو کر باہر آ گئے ۔ حالانکہ کڑکڑڈوما عدالت کی جانب سے حکم صادر کیے جانے سے قبل ہی فیصلہ کے خلاف دہلی پولیس ، ہائی کورٹ پہنچی تھی ۔ تاہم دہلی پولیس کو راحت نہیں ملی ، جس کے بعد ملزمان کی رہائی پر عملدرآمد کرنا پڑا ۔


غورطلب ہے کہ منگل کو تینوں ملزمان کو دہلی ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے ضمانت دے دی تھی کہ مخالفت اور احتجاج کرنا ملک مخالف سرگرمی نہیں ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 18, 2021 08:22 PM IST