உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی فسادات : عدالت نے تینوں طلبہ کارکنان آصف ، دیوانگنا اور نتاشا کو فورا رہا کرنے کا دیا حکم

    دہلی فسادات : عدالت نے تینوں طلبہ کارکنان آصف ، دیوانگنا اور نتاشا کو فورا رہا کرنے کا دیا حکم

    دہلی فسادات : عدالت نے تینوں طلبہ کارکنان آصف ، دیوانگنا اور نتاشا کو فورا رہا کرنے کا دیا حکم

    جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم آصف اقبال تنہا اور جواہرلال نہرو یونیورسٹی کی طالبہ دیوانگنا کالیتا اور نتاشا نروال کی عرضی پر جسٹس سدھارھ مردول اور جسٹس اے جے بھنبھانی کی بینچ نے سماعت کی ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : دہلی کی ایک عدالت نے شمال مشرقی دہلی فسادات سے وابستہ ایک معاملہ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم آصف اقبال تنہا اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طالبہ دیوانگنا کالیتا اور نتاشا نروال کو فورا جیل سے رہا کرنے کا جمعرات کو حکم دیا ۔ دہلی ہائی کورٹ کے ان تینوں طلبہ کو ضمانت دینے کے دو دن بعد عدالت نے یہ حکم دیا ۔ انہیں گزشتہ سال فروری میں فسادات سے وابستہ ایک معاملہ میں غیرقانونی سرگرمیاں ( روک تھام) قانون کے تحت مئی 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ انہیں ان کے پتہ اور ضمانت داروں سے وابستہ جانکاری مکمل نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے وقت پر جیل سے رہا نہیں کیا گیا تھا ۔

      جسٹس سدھارتھ مردول اور جسٹس اے جے بھنبھانی کی بینچ نے عرضیوں پر سماعت کی ، جس میں کہا گیا ہے کہ ضمانت سے وابستہ حکم پاس ہونے کے 36 گھنٹوں کے بعد بھی ملزمین کو جیل سے رہا نہیں کیا گیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے تینوں کو ضمانت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست نے احتجاج کے حق اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے درمیان کی لائن کو دھندلا کردیا ہے اور اگر اس طرح کی ذہنیت جاری رہی تو یہ جمہوریت کیلئے ایک افسوسناک دن ہوگا ۔

      پولیس کا دعویٰ ہے کہ تنہا نے شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں مظاہرے کرنے میں سرگرم کردار ادا کیا تھا۔ بتادیں کہ دہلی ہائی کورٹ نے چار جون کو تنہا کو 13 سے 26 جون تک دو ہفتوں کیلئے عبوری ضمانت دی تھی تاکہ وہ 15 جون سے ہونے والے امتحانات کے پیش نظر اسٹڈی کرنے اور امتحان میں شامل ہونے کیلئے دہلی کے ہوٹل میں رہ سکے ۔

      وہیں دہلی پولیس نے شمال مشرقی دہلی میں گزشتہ سال ہوئے فسادات سے وابستہ معاملات میں تین طلبہ کارکنان کو ضمانت دینے کیلئے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو بدھ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے ۔

      قابل ذکر ہے کہ 24 فروری 2020 کو شمال-مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان تشدد مشتعل کرنے کے بعد ہوئے فسادات میں 53 افراد مارے گئے تھے اور تقریباً دیگر 200 افراد زخمی ہوئے تھے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: