ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی فساد گراؤنڈ رپورٹ: کر دم پوری معاملے میں بڑھ سکتی ہیں پولیس کی مشکلیں

شمال مشرقی دہلی میں گذشتہ دنوں ہوئے فساد کے دوران چند مسلم نوجوانوں کی پٹائی اور زبردستی قومی ترانہ گانے پر مجبور کیے جانے کی تصویریں سامنے آئیں تھیں اب اس معاملے میں دہلی پولیس کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں کیونکہ دہلی اقلیتی کمیشن اس معاملے میں میں مداخلت کرتے ہوئے قصوروار پولیس اہلکاروں کو سزا دلانے کے لیے لئے آگے بڑھ رہا ہے۔

  • Share this:
دہلی فساد گراؤنڈ رپورٹ: کر دم پوری معاملے میں بڑھ سکتی ہیں پولیس کی مشکلیں
شمال مشرقی دہلی میں گذشتہ دنوں ہوئے فساد کے دوران چند مسلم نوجوانوں کی پٹائی اور زبردستی قومی ترانہ گانے پر مجبور کیے جانے کی تصویریں سامنے آئیں تھیں اب اس معاملے میں دہلی پولیس کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں کیونکہ دہلی اقلیتی کمیشن اس معاملے میں میں مداخلت کرتے ہوئے قصوروار پولیس اہلکاروں کو سزا دلانے کے لیے لئے آگے بڑھ رہا ہے۔

شمال مشرقی دہلی میں گذشتہ دنوں ہوئے فساد کے دوران چند مسلم نوجوانوں کی پٹائی اور  زبردستی قومی ترانہ گانے پر مجبور کیے جانے کی تصویریں سامنے آئیں تھیں اب اس معاملے میں دہلی پولیس کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں کیونکہ دہلی اقلیتی کمیشن اس معاملے میں میں مداخلت کرتے ہوئے قصوروار پولیس اہلکاروں کو سزا دلانے کے لیے لئے آگے بڑھ رہا ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کی ٹیم  نے متاثرہ لوگوں سے ملاقات کی ہے اس ٹیم میں وکیلوں کی بھی نمائندگی ہے۔  کمیشن کی طرف سے متاثرین کو مدد اور قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ ہر طرح سے تعاون  دینے کا یقین دلایا ہے۔

شمال مشرقی دہلی کے کردم پوری علاقے میں پولیس کے ذریعے کچھ نوجوانوں کی مبینہ طور پر پٹائی کرنے کا ویڈیو سامنے آیا تھا۔ ان نوجوانوں میں سے ایک نوجوان فیضان کی موت بعد میں اسپتال میں علاج کے دوران ہوگئی تھی لیکن اب تک اس معاملے میں کسی طرح کی کوئی قانونی چارہ جوئی یا کیس درج نہیں ہوا ہے ۔ فیضان بھی ان نوجوانوں میں شامل تھا جن کی پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کے ذریعے پٹائی کی گئی تھی اور قومی ترانہ گانے پر مجبور کیا گیا تھا۔ فیضان کے اہل خانہ کے مطابق 24 فروری کو پولیس نے نوجوانوں کی پٹائی کی اور پھر ان کو تھانے لے گئی جہاں ان کی ہلکی پھلکی مرہم پٹی کی گئی لیکن ان کا ٹھیک سے خیال نہیں رکھا گیا۔

فیضان کی والدہ نے بتایا  وہ چوبیس تاریخ کو ہی تھانے پہنچ گئی تھی اور پولیس سے مسلسل درخواست کرتی رہیں کہ ان کے بیٹے کو انہیں سونپ دیا جائے۔ لیکن بچیس تاریخ میں رات ایک بجے  ان کے بیٹے کو ان کے حوالے کیا گیا۔ 26 تاریخ کی صبح وہ اس کو اروند اسپتال لے کر گئے جہاں پر رات11بجے فیضان نے دم توڑ دیا۔ وہیں فیضان کے بھائی وسیم کا کہنا ہے ہم پولیس سےنہیں لڑسکتے سرکار ان کی عدالت ان کی سب کچھ ان کا ہے۔ میرا بھائی چلا گیا اب وہ لوٹ کر نہیں آسکتا ہم غریب لوگ ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں۔ فیضان کی والدہ کا کہنا ہے ہے وہ اپنا بیان نہیں بدلیں گی اور سچ کہیں گی۔

وہیں اس معاملے میں ایک اور نوجوان رفیق جس کی بری طرح سے پٹائی کی گئی تھی اس کے اہل خانہ بھی کافی خوف میں ہیں۔  اس معاملے میں دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے بتایا کمیشن ان کی ہر طرح سے مدد کرنے کے لئے تیار ہے اور ہم ان کی حوصلہ افزائی کرنے اور ان کو یہ بتانے آئے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

واضح رہے کہ دہلی فسادات 24 فروری سے 26 فروری تک چلتا رہا تین دنوں تک چلتے رہے اس فساد میں پچاس سے زیادہ جانیں چلی گئی سیکڑوں املاک جلا دی گئی۔ دہلی پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں پر بہت سارے سوال  اٹھ رہے ہیں کردم پوری کا معاملہ بھی ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب سرکار سسٹم اور پولیس کو دینا ہے۔

First published: Mar 13, 2020 03:39 PM IST