ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی فسادات: محمد راشد کی پیشگی ضمانت منظور ، پولیس کررہی تھی گرفتاری کی تیاری، جانئے کیا ہے معاملہ

Delhi Riots : عدالت نے سماعت کے بعد راشد کی پیشگی ضمانت کو منظور دی اور مزید ہدایت کی کہ اگر پولیس اسے تحویل میں لینا چاہتی ہے تو راشد کو ایک ہفتہ پیشگی نوٹس دیا جائے گا تاکہ وہ قانونی تدیبر کے حق سے استفاد ہ کرسکے ۔

  • Share this:
دہلی فسادات: محمد راشد کی پیشگی ضمانت منظور ، پولیس کررہی تھی گرفتاری کی تیاری، جانئے کیا ہے معاملہ
دہلی فسادات: محمد راشد کی پیشگی ضمانت منظور ، پولیس کررہی تھی گرفتاری کی تیاری، جانئے کیا ہے معاملہ

نئی دہلی : دہلی کی کرکرڈوما عدالت نے  حاجی محمد ہاشم کے بیٹے محمد راشد کی پیشگی ضمانت منظور کی ہے۔ راشد کے خلاف دہلی پولس نے ایف آئی آر درج کی تھی اور اس کی گرفتاری کی تیاری کررہی تھی ۔ حالانکہ حاجی محمد ہاشم اور محمد راشد ان لوگوں میں شامل ہیں ، جن کے مکان کو فسادیوں نے جلا دیا تھا اور ان کی مدینہ مسجد کو تباہ کردیا تھا۔ محمد راشد نے ان واقعات کے خلاف شیووہار کے چند لوگوں کے خلاف پولس میں شکایت کی تھی ، ان کے والد حاجی محمد ہاشم نے بھی پولیس میں اس سے متعلق شکایت کی تھی، لیکن پولس نے الٹے انصاف دلانے کی بجائے ان پر ایف آئی آر درج کردی اور حاجی محمد ہاشم کو قید کرلیا ۔ گزشتہ سال چالیس دن کے بعد حاجی محمد ہاشم ضمانت پر باہر آگئے ۔ لیکن پولیس ان کے بیٹے محمد راشد کو نذر زنداں کرنے پر مصر تھی ۔ عدالت نے گزشتہ ماہ اپریل میں سماعت کے دوران پولیس کے اس رویہ پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ طریقہ غیر معقول اور انصاف کی راہ میں کانٹا بونے کی طرح ہے ۔


اس کے برعکس حاجی محمد ہاشم ، محبوب عالم، محمدراشد اور حاجی عبد الجبار نے مدینہ مسجد کو پہنچنے والے نقصان کے سلسلے میں 25.06.2020 کو پولس تھانہ میں شکایت درج کروائی تھی۔ شکایت میں 15 افراد کا نام لیا گیا تھا جو مسجد پر حملے میں ملوث تھے۔ لیکن پولیس نے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی ۔ اس کے پیش نظر کمیٹی نے عدالت سے رجوع کیا اور مجسٹریٹ کی عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی تھی ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ پولیس نے اس کے خلاف اپیل کردی جو اب تک عدالت میں زیر التوا ہے ۔


آج عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد حاضر ہوئے اور انہوں نے راشد کے لیے پیشگی ضمانت کی درخواست پر بحث کی ۔ عدالت نے سماعت کے بعد راشد کی پیشگی ضمانت کو منظور دی اور مزید ہدایت کی کہ اگر پولیس اسے تحویل میں لینا چاہتی ہے تو راشد کو ایک ہفتہ پیشگی نوٹس دیا جائے گا تاکہ وہ قانونی تدیبر کے حق سے استفاد ہ کرسکے ۔ ایڈوکیٹ ایم آرشمشاد نے کہا کہ اس سے پہلے بھی راشد کی گرفتاری کی پولس نے کوشش کی تھی ، لیکن عدالت نے روک لگادی تھی ۔ اب عدالت نے پیشگی ضمانت منظور کرکے تقریبا اس راہ کو مسدود کردیا ہے۔


اس فیصلے پر جمعیۃ علما ء ہند کے قانونی معاملات کے نگراں ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی نے کہا کہ دہلی فساد کے سلسلے میں پولس کے رویے پر بہت سارے سوالات اٹھائے گئے ہیں ، مدینہ مسجد کے خاطیوں کے سلسلے میں پولس کا کردار ان تمام سوالات کی توثیق کرتا ہے۔

محمد راشد کی پیشگی ضمانت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ مدینہ مسجد کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار افراد کو کیفرکردار تک پہنچانا یہ پولیس اور سرکار کی ذمہ داری ہے، لیکن افسوس ہے کہ پولس انتظامیہ کیفردار تک پہنچانے کے بجائے ان کو بچانے کی کوشش کررہی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 08, 2021 11:24 PM IST