உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی یونیورسٹی میں اجودھیا میں رام مندرکی تعمیر سے متعلق سیمینار کی مخالفت

    نئی دہلی۔  11 تنظیموں نےدہلی یونیورسٹی میں 9 جنوری کو اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے سلسلے میں ہونے والے سیمینار کی سخت مخالفت کی ہے اور اسے یونیورسٹی کا غلط استعمال قرار دیا ہے۔

    نئی دہلی۔ 11 تنظیموں نےدہلی یونیورسٹی میں 9 جنوری کو اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے سلسلے میں ہونے والے سیمینار کی سخت مخالفت کی ہے اور اسے یونیورسٹی کا غلط استعمال قرار دیا ہے۔

    نئی دہلی۔ 11 تنظیموں نےدہلی یونیورسٹی میں 9 جنوری کو اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے سلسلے میں ہونے والے سیمینار کی سخت مخالفت کی ہے اور اسے یونیورسٹی کا غلط استعمال قرار دیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  11 تنظیموں نےدہلی یونیورسٹی میں 9 جنوری کو اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے سلسلے میں ہونے والے سیمینار کی سخت مخالفت کی ہے اور اسے یونیورسٹی کا غلط استعمال قرار دیا ہے۔ آل انڈیا ڈیموکریٹک اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن، کامن ٹیچرس فارم، ڈیموکریٹک ٹیچرس فرنٹ، کرانتی کاری یووا تنظیم، اسٹوڈینٹس فیڈریشن آف انڈیا، جن وادی لیکھک سنگھ، پریورتن کاری چھاتر سنگھ، بھگت سنگھ چھاتر ایکتا منچ، دشا، نارتھ ایسٹ فورم فار انٹرنیشنل سالیڈیریٹی اور آل انڈیا اسٹوڈینٹس ایسوسی ایشن نے یہاں جاری بیان میں یہ احتجاج کیا ہے۔


      بیان میں کہا گیا ہے کہ دہلی یونیورسٹی کے کسی محکمہ نے جب یہ سیمینار نہیں کیا ہے تو یونیورسٹی انتظامیہ نے اروندھتی وششٹھ، ریسرچ سنٹر کی جانب سے 9 جنوری کو آرٹ فیکلٹی میں ہونے والے سیمینار کی اجازت کیوں دی ہے۔ یہ سیمینار کسی اکادمی سرگرمی کا حصہ نہیں ہے۔ اس لئے ایک مرکزی یونیورسٹی میں اس طرح سیمینار کرنے کے پیچھے آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کی سازش ہے جس کا مقصد طلبہ اور نوجوانوں کی حمایت حاصل کرنا ہے۔


      بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کا سیمینار کرکے یونیورسٹی کے احاطہ کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ تعلیمی ادارے تعلیم حاصل کرنے کیلئے ہوتے ہیں۔

      First published: