ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

فساد کے ایک ہفتہ بعد بھی شیووہار علاقے میں متاثرین اپنے گھروں کو نہیں لوٹ پا رہے

ان متاثرین کا کہنا ہے وہ اگر اپنے علاقے میں لوٹ کر جاتے ہیں تو انہیں دھمکایا جاتا ہے ہے حالات ابھی تک ک ٹھیک نہیں ہوئے ہیں اور وہ سرکار سے تحفظ اور سیکورٹی چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے گھر لوٹ سکیں۔

  • Share this:
فساد کے ایک ہفتہ بعد بھی شیووہار علاقے میں متاثرین اپنے گھروں کو نہیں لوٹ پا رہے
ان متاثرین کا کہنا ہے وہ اگر اپنے علاقے میں لوٹ کر جاتے ہیں تو انہیں دھمکایا جاتا ہے ہے حالات ابھی تک ک ٹھیک نہیں ہوئے ہیں اور وہ سرکار سے تحفظ اور سیکورٹی چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے گھر لوٹ سکیں۔

شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد کو تقریبا ایک ہفتہ گزر چکا ہے اس ایک ہفتے کے دوران تشدد کے واقعات سامنے نہیں آئے ہیں لیکن ابھی تک بھی ابھی شیووہار علاقے سے تعلق رکھنے والے فسادمتاثرین کے گھر واپس جانے کی راہ ہموار نہیں ہوسکی ہے۔ ان متاثرین کا کہنا ہے وہ اگر اپنے علاقے میں لوٹ کر جاتے ہیں تو انہیں دھمکایا جاتا ہے ہے حالات ابھی تک ک ٹھیک نہیں ہوئے ہیں اور وہ سرکار سے تحفظ اور سیکورٹی چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے گھر لوٹ سکیں۔

دراصلمتاثرین کو دہلی حکومت اور دہلی وقف بورڈ کی طرف سے لگائے گئے کیمپ میں پناہ ملی ہے یہ کیمپ مصطفی آباد یاد کی عیدگاہ میں لگایا گیا  ہے کیمپ میں فساد سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے مصطفی آباد کے شیو وہار علاقے کے متاثرین ہیں اس کیمپ میں متاثرین کو راحت دینے کے لیے میڈیکل کیمپ اور دوسری بنیادی سہولیات کے علاوہ لیگل سپورٹ کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی اشیاء کا انتظام ہے۔

سرکاری سطح پر لگائے گئے اس کیمپ میں پندرہ سو سے دو ہزار لوگوں کے رہنے کی صلاحیت ہے یہاں پر ایک ہزار کے قریب متاثرین  پہنچ چکے ہیں۔ شیووہار علاقے کے علاوہ چمن پارک اور برج پوری علاقے کے متاثرین بھی کیمپ میں پناہ لینے آئے ہیں۔ شیووہار علاقے کے متاثرین کا کہنا ہے بروز منگل انہیں رات کے وقت خط اپنے مکانات کو چھوڑنا پڑا کیونکہ ہر طرف آزادی گھوم رہے تھے اور مکانوں کو آگ لگائی جارہی تھی بڑی مشکل سے جان بچا کر پاس کے علاقے آگے چاند باغ اور چمن پارک پہنچے اور جب سرکار کی طرف سے کیمپ لگایا گیا تو وہ کیمپ میں آگئے ہیں لیکن وہ یہاں پر رہنا نہیں چاہتے وہ اپنے گھروں کو لوٹنا چاہتے ہیں۔



شیووہار علاقے کے ایک متاثر نے بتایا پیر کے دن ہی ان کے گھر پر حملہ ہوگیا تھا صبح کے وقت تقریبا سات بجے آنے کی کوشش کی۔ فسادیوں نے اپنے سر پر ہیلمٹ پہن رکھے تھے اور کھلے عام آگ زنی کر رہے تھے۔ ہم برابر پولیس کو فون کرتے رہے پولیس آنے کا وعدہ کرتی رہی لیکن آئی نہیں یہاں تک کہ ہمیں اپنے گھر چھوڑ کر نکلنا پڑا اب ہمارے گھروں میں آگ لگا دی گئی ہے، ہمارا سب کچھ جل کر خاک ہو چکا ہے یا پھر لوٹ لیا گیا ہے۔ ہم اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں لیکن مقامی لوگ ہمیں دھمکا رہے ہیں ہم اپنا بچا ہوا سامان بھی نہیں نکال پا رہے۔ ایک متاثر نے بتایا شیو وہار کے علاقے میں تقریبا آٹھ ہزار کے قریب مسلمان آباد ہیں سبھی کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ بہت سے مکانوں کو آگ لگا دی گئی اور جو بچ گئے ان کو لوٹ لیا گیا آگ لگانے کے لیے سلینڈر کا استعمال کیا گیا ۔
اس پورے معاملے میں مصطفیٰ آباد کے رکن اسمبلی حاجی یونس نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا ان کو بھی لوگوں کو دھمکائے جانے کی شکایتیں ملی ہیں انہوں نے دہلی پولیس سے بات کی ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے حاجی یونس نے بتایا یا متاثرین کو مدد دینے کے  لیے دہلی سرکار پوری کوشش کر رہی ہے اور ان کے لوگ ویریفکیشن کے لئے ان کے گھروں پر پہنچ رہے ہیں ہیں کیمپ میں بھی لوگوں کی مدد کی جائے گی
First published: Mar 04, 2020 10:55 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading