ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی تشدد: اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت سےفوج بلانے کاکیامطالبہ، بولےپولیس سےنہیں سنبھل رہے حالات

ملک کی راجدھانی کے شمال مشرق ضلع تین دنوں سے تشدد کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ اس درمیان دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے پولیس پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے فوج کو بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • Share this:
دہلی تشدد: اروند کیجریوال  نے مرکزی حکومت سےفوج بلانے کاکیامطالبہ، بولےپولیس سےنہیں سنبھل رہے حالات
ملک کی راجدھانی کے شمال مشرق ضلع تین دنوں سے تشدد کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ اس درمیان دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے پولیس پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے فوج کو بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

نئی دہلی: ملک کی راجدھانی کے شمال مشرق ضلع تین دنوں سے تشدد کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ اس درمیان دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے پولیس پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے فوج کو بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بابت وہ عزیر داخلہ کو خط لکھیں گے۔ بتادیں کہ شمال۔مشرق دہلی کے جعفرآباد ، موجپور ، چاند پور، کھجوری خاص جیسے علاقوں میں تشدد بھڑک اٹھاتھا۔ اس میں ابھی تک 20 لوگوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ 150 سے زیادہ لوگ زخمی بتائے جارہے ہیں۔

سی ایم کیجریوال نے بدھ کو تویٹ کیا میں پوری رات بڑی تعداد میں لوگوں کے رابطے میں تھا۔ حالات بیحد فکرمند ہیں۔ تمام کوششوں کے باوجود حالات پر قابو پانے اور عام لوگوں میں بھروسہ دلانے کی کے امکان پیدا کرنے میں ناکام ہے۔ ایسے میں تشدد سے متاثر علاقوں میں ایمرجنسی کرفیو لگانے کے ساتھ آرمی کو تعینات کیا جانا چاہئے۔ میں اس بابت وزیر داخلہ کو خط لکھوں گا۔



وہیں اس معاملے میں دہلی پولیس نے مرکزی وزیر داخلہ کو بتایا ہے کہ دہلی کے کچھ حصوں میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کے دوران تشدد کو فورا قابو کرنے کیلئے اس کے پاس فورسز کی کمی تھی۔ ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ دہلی پولیس کے سی پی امولیا پٹنائک نے وزارت داخلہ کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ اپنی میٹنگ کے دوران فورسز دستیابی کے بارے میں جانکاری دی۔
First published: Feb 26, 2020 11:57 AM IST