ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی تشدد : پولیس کا دعوی ، تشدد بھڑکانے کیلئے بیرون ممالک سے بھیجے گئے 1.62 کروڑ روپے

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی (CAA-NRC) کے خلاف دہلی میں فروری میں ہوئے مظاہرہ اور فسادات (Delhi Riots) کے معاملہ میں ہوئی فنڈنگ کا اب تک کا سب سے بڑا انکشاف کرنے کا دہلی پولیس نے دعوی کیا ہے ۔

  • Share this:
دہلی تشدد :  پولیس کا دعوی ، تشدد بھڑکانے کیلئے بیرون ممالک سے بھیجے گئے 1.62 کروڑ روپے
دہلی تشدد : پولیس کا دعوی ، تشدد بھڑکانے کیلئے بیرون ممالک سے بھیجے گئے 1.62 کروڑ روپے

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی (CAA-NRC)  کے خلاف دہلی میں فروری میں ہوئے مظاہرہ اور فسادات  (Delhi Riots) کے معاملہ میں ہوئی فنڈنگ کا اب تک کا سب سے بڑا انکشاف کرنے کا دہلی پولیس نے دعوی کیا ہے ۔ دہلی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ دہلی میں تشدد سے پہلے ملزمین کے کھاتوں میں ایک کروڑ 62 لاکھ 46 ہزار 53 روپے آئے تھے ۔ تشدد کے ملزمین نے اس میں سے تقریبا ایک کروڑ 47 لاکھ 98 ہزار 893 روپے دہلی میں چل رہے تقریبا 20 مظاہرین کی جگہوں اور دہلی میں تشدد کروانے میں خرچ کیا تھا ۔


دہلی پولیس کے مطابق ملزمین نے اس رقم سے تشدد کیلئے ہتھیار خریدے ۔ ساتھ ہی سی اے اے کے خلاف احتجاج کیلئے ضرورت کی دیگر اشیا بھی خریدی تھی ۔ ملزمین کے بینک اکاونت میں ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک سے بھی موٹا پیسہ آیا تھا ۔ عمان ، قطر ، یو اے ای اور سعودی عرب جیسے ممالک سے دہلی میں تشدد کیلئے پیسے بھیجے گئے تھے ۔ دہلی تشدد کے جن ملزمین کے بینک اکاونٹ میں یہ پیسے آئے ، ان کے نام طاہر حسین ، میران حیدر ، عشرت جہاں ، شفیع الرحمان اور خالد سیفی ہیں ۔ سب سے زیادہ پیسہ طاہر حسین کے بینک اکاونٹ میں آیا تھا ۔


تشدد کی ملزم عشرت جہاں کے اکاونٹ میں اور نقد کے طور پر 541000 روپے آئے ، جس میں سے چار لاکھ ساٹھ ہزار نو سو روپے خرچ کئے گئے ، جس میں سے بڑا حصہ دہلی تشدد کیلئے ہتھیار خریدنے اور مظاہرہ کی جگہوں پر خرچ کئے گئے ۔


پولیس کے مطابق تشدد کے ملزم شفیع الرحمان کے اکاونٹ میں اور کیش کے طور پر 12 لاکھ 88 ہزار 559 روپے آئے ، جس میں سے پانچ لاکھ 55 ہزار روپے بیرون ممالک سے آئے تھے ۔ اس میں سے قطر ، عمان ، سعودی عرب سے نو لاکھ 34 ہزار چھ سو روپے آئے ، جو سی اے اے این آر سی کے خلاف احتجاج کی جگہوں پر خرچ کئے گئے تھے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 03, 2020 11:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading