ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی تشدد: دہلی میں حالات معمول پر، جمعے کی نماز کو لیکر پولیس الرٹ

پولیس کے افسران نے بتایا کہ ہمارا فوکس پوری دہلی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمال۔مشرقی دہلی میں حالات معمول پر لانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ وہین ساؤتھ دہلی کے جامعہ میں جمعے کی نماز کو دیکھتے ہوئے چوکسی بڑھادی گئی ہے۔

  • Share this:
دہلی تشدد: دہلی میں حالات معمول پر، جمعے کی نماز کو لیکر پولیس الرٹ
پولیس کے افسران نے بتایا کہ ہمارا فوکس پوری دہلی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمال۔مشرقی دہلی میں حالات معمول پر لانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ وہین ساؤتھ دہلی کے جامعہ میں جمعے کی نماز کو دیکھتے ہوئے چوکسی بڑھادی گئی ہے۔

راجدھانی دہلی کے شمال - مشرقی علاقے میں بھڑکے  تشدد کے بعد اب حالات بہتر ہو گئے ہیں لیکن پولیس کیلئے ابھی بھی چیلنجز کم نہیں ہے۔ دہلی میں پھیلے تشدد (Delhi Violence)  کے بعد آج پہلا جمعہ ہے۔ جمعے کی نماز کے  مد نظر پولیس نے اپنی چوکسی اور بڑھادی ہے۔ رات تک تشدد متاثر علاقوں میں فلیگ مارچ نکالا گیا۔ واضح رہے کہ دہلی میں گزشتہ دنوں میں بھڑکے تشدد میں اب تک  مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر38 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 200 زیادہ زخمی ہوگئے۔

وہیں، وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو لوگوں سے امن اور بھائی چارہ بنائے رکھنے کی اپیل کی۔ قومی سلامتی کےمشیر اجیت ڈوبھال نے بدھ کو فساد متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ بدھ کو دہلی پولیس نے بتایا تھا کہ تشدد معاملے میں اب تک 106 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور 18 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی متاثرہ علاقوں کا دور کیا تھا۔

دہلی تشدد کےبعد آج پہلی جمعے کی نماز پڑھی جائے گی۔ دہلی کے پر تشدد ماحول کو دیکھتے ہوئے پولیس کی کوشش ہے کہ آج دن امن سے نکل جائے۔ دہلی پولیس نے علاقے میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے چپے۔چپے پر اپنے سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کی ہے۔ تشدد متاثر علاقوں میں پولیس کی مستعدی بڑھا دی گئی۔

پولیس کے افسران نے بتایا کہ ہمارا فوکس پوری دہلی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمال۔مشرقی دہلی میں حالات معمول پر لانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ وہیں ساؤتھ دہلی کے جامعہ میں جمعے کی نماز کو دیکھتے ہوئے چوکسی بڑھادی گئی ہے۔


دہلی تشدد معاملے میں جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ ہائی کورٹ نے دہلی پولیس اور مرکزی حکومت کو اشتعال انگیز بیان کو لے کرداخل عرضی پر تفصیلی جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ 4 ہفتے میں وزارت داخلہ کو جواب دینے کا حکم دیا گیا۔ اس معاملے پر آئندہ سماعت 13 اپریل کو ہوگی۔



First published: Feb 28, 2020 09:21 AM IST