உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ریستوران میں غریب بچوں کو کھانا کھلانے گئی تھی خاتون ، پانی تک نہیں ملا

    نئی دہلی : دہلی کا دل کہے جانے والے کناٹ پلیس علاقہ میں ایک خاتون اپنے بچے کے ساتھ گھنٹوں تک ایک مشہور ریستوران کے گیٹ کے باہر بیٹھی رہی ۔

    نئی دہلی : دہلی کا دل کہے جانے والے کناٹ پلیس علاقہ میں ایک خاتون اپنے بچے کے ساتھ گھنٹوں تک ایک مشہور ریستوران کے گیٹ کے باہر بیٹھی رہی ۔

    نئی دہلی : دہلی کا دل کہے جانے والے کناٹ پلیس علاقہ میں ایک خاتون اپنے بچے کے ساتھ گھنٹوں تک ایک مشہور ریستوران کے گیٹ کے باہر بیٹھی رہی ۔

    • IBN7
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : دہلی کا دل کہے جانے والے کناٹ پلیس علاقہ میں ایک خاتون اپنے بچے کے ساتھ گھنٹوں تک ایک مشہور ریستوران کے گیٹ کے باہر بیٹھی رہی ۔ اس خاتون کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ساتھ کچھ غریب بچوں کو کھانا کھلانے کے لئے ریستوران میں لے گئی ، لیکن ریستوران والوں نے بچوں کو وہاں کھلانے سے انکار کر دیا ۔  خاتون کا الزام ہے کہ بچوں کے کپڑے گندے ہونے کی بات کہتے ہوئے انہیں ریستوران میں بیٹھ کر کھانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ خاتون کا دعوی ہے کہ گھنٹوں تک وہ ریستوران والوں سے گزارش کرتی رہی ، لیکن انہیں غریب بچوں کے ساتھ کھانا کھانے کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں مجبورا باہر جاکر دوسرے ریستوران میں کھانا کھانا پڑا ۔ اتنا ہی نہیں خاتون نے ریستوران کے مالک کے بیٹے پر دھمکی دینے اور بدسلوکی کرنے کا الزام بھی لگایا ۔

      یہ پوری کہانی دہلی کے جن پتھ کے معروف ریسٹورینٹ شیو ساگر کی ہے ۔ سونالی نام کی ایک خاتون اپنے شوہر کی سالگرہ منانے دہرادون سے دہلی آئی ہوئی تھی ۔ خاتون اپنے ساتھ کچھ غریب بچوں کو لے کر ریستوران میں کھانا کھانے گئی تھی ۔ یہ تمام بچے سیٹ پر گئے اور سونالی نے کھانا آرڈر کرنے کے لئے ویٹر کو بلایا ، لیکن ریستوران کے ملازمین نے غریب بچوں کو دیکھ کر ان کو وہاں سے باہر نکال دیا ۔ سونالی کا الزام ہے کہ ریستوران والوں نے پھٹے پرانے کپڑے پہنے ان بچوں کو وہاں بٹھا کر کھانا کھلانے سے انکار کر دیا ۔ سونالی نے گھنٹوں تک ریستوران والوں سے غریب بچوں کے ساتھ کھانا کھانے دینے کے لئے گزارش کی ، لیکن ان کی کسی نے نہیں سنی ۔

      سونالی جمعہ کو اپنے شوہر کی سالگرہ منانے دہرادون سے دہلی پہنچی تھی ۔ ہفتہ دوپہر تقریبا دو بجے وہ جن پتھ مارکیٹ کے شیو ساگرریستوران میں لنچ  کرنے گئیں ۔ یہاں ریستوران کے باہر انہیں کچھ غریب بچے نظر آئے ۔ سونالی نے ان بچوں کو اپنے ساتھ لے لیا اور انہیں اپنے ساتھ لنچ کرانے کے لئے شیو ساگر ریستوران کے اندر لے گئی ، لیکن ریستوران والوں نے ان بچوں کے گندے کپڑوں کی دلیل دیتے ہوئے انہیں کھانا دینے سے انکار کر دیا ۔ اس کی سونالی نے پولیس کو خبر کر دی ۔ سونالی کے کنبہ کا الزام ہے کہ موقع پر پہنچی پولیس نے بھی ریستوران والوں کے خلاف کوئی ایکشن لینے کی بجائے الٹا انہیں ہی ڈاٹنا شروع کر دیا ۔

      سونالی کے بیٹے انگد نے بتایا کہ ہمیں ریستوران میں پانی تک نہیں دیا گیا ۔ اے سی بند کر دیا ۔ پولیس نے آ کر ہمیں ہی ڈانٹا ۔ پھر ہمیں مجبورا دوسرے ہوٹل میں کھانا کھانے جانا پڑا ۔  وہیں اس پورے واقعات پر شیو ساگر ریستوران کی طرف سے جو صفائی دی گئی ، وہ ایک دم ہی الگ تھی ۔ ریستوران انتظامیہ کا دعوی ہے کہ یہ بچے وہاں شور مچا رہے تھے اور چیزیں اٹھا کر پھینک رہے تھے، اس لئے ایسا کیا گیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے کو غلط سمت میں لے جا کر بے وجہ طول دیا جا رہا ہے جبکہ امتیازی سلوک جیسی کوئی بات نہیں ہے ۔

      دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے ٹویٹ کر کے اس معاملے پر نوٹس لینے کی معلومات دی ۔ انہوں نے لکھا کہ یہ خطرناک ذہنیت ہے ۔ اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ میں نے ڈی ایم سے جانچ کر کے 24 گھنٹے میں رپورٹ دینے کو کہا ہے ۔
      First published: