உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کانگریس دہلی میں اتارسکتی ہے ایک مسلم امیدوار، ہارون یوسف، حسن احمد اورچودھری متین کے نام پرکیا جارہا ہےغوروخوض

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    چاندنی چوک اورشمال مشرقی پارلیمانی حلقہ سے مسلم امیدواراتارنے کے لئے سازگارماحول بتایا جارہا ہے۔ یہ دونوں سیٹیں ایسی ہیں جہاں پرمسلمانوں کی مناسب آبادی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: لوک سبھا الیکشن 2019 کے لئے تاریخوں کا اعلان ہوگیا ہے۔ تمام پارٹیاں اپنے امیدواروں کی فہرست تیارکرنے میں مصروف ہیں۔ کئی ریاستوں میں ابھی اتحاد کے فارمولے پربھی غورکیا جارہا ہے۔ خاص طورپراترپردیش اوردارالحکومت دہلی میں اتحاد کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ تاہم اس معاملے میں کوئی پیش رفت ہوتی  ہوئی نظرنہیں آرہی ہے۔

      لوک سبھا الیکشن سے قبل دہلی کانگریس پرایک بڑا دباو بنا ہوا ہے۔ کانگریس کا روایتی ووٹ بینک اقلیتی طبقہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کے ساتھ منسلک ہوگیا تھا، جس کے بعد دہلی میں کانگریس کا کھاتہ بھی نہیں کھلا تھا۔ ساتھ ہی لوک سبھا الیکشن میں عام آدمی پارٹی اورکانگریس میں ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ بی جے پی کومل گیا تھا اوروہ تمام ساتوں سیٹوں پرجیت گئی تھی۔

      ایسے حالات میں دہلی کی ساتوں سیٹوں پرایک مسلم امیدواراتارنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ پارٹی کارکنان نےہائی کمان کومشورہ دیا ہے کہ اگردہلی میں کانگریس کومسلمانوں کا ووٹ واپس لانا ہے توآئندہ لوک سبھا انتخابات میں ایک مسلم امیدواراتارنا ہوگا۔ پارٹی اس معاملے پر غوربھی کررہی ہے۔ مسلم امیدوارکےلئے سازگارسیٹ کی تلاش بھی کی جارہی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں چاندنی چوک پارلیمانی حلقہ اورشمال مشرقی پارلیمانی حلقہ سازگاربتایا جارہا ہے۔ یہ دونوں سیٹیں ایسی ہیں جہاں پرمسلمانوں کی آبادی مناسب ہے۔

      چاندنی چوک پارلیمانی حلقہ میں جامع مسجد، بلیماران، چاندنی چوک مسلم اکثریتی حلقہ ہیں جبکہ شمال مشرقی دہلی میں سیلم پور، مصطفیٰ آباد، بابرپوراوراس کے اطراف کی سیٹوں پر بھی مسلمانوں کی مناسب آبادی ہے، اس طرح سے ان دونوں سیٹوں پرمسلم امیدوارکے لئے راہیں ہموار ہوسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں امیدواروں پرغورکرنے کے بعد چاندنی چوک سیٹ اگرمسلم امیدوارکے حصے میں جاتی ہے تویہاں سے سابق ریاستی وزیراوردہلی کے موجودہ ایگزیکٹیوصدرہارون یوسف کوامیدواربنایا جاسکتا ہے۔ جبکہ شمال مشرقی پارلیمانی سیٹ پر مصطفیٰ آباد کے سابق ممبراسمبلی حسن احمد اورسیلم پورکے سابق ممبراسمبلی چودھری متین احمد کے نام سامنے آرہے ہیں اورپارٹی ان پربھی غورکررہی ہے۔

      ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کانگریس اگرمسلم امیدواراتارتی ہے تو وہ عام آدمی پارٹی کے خلاف ایک ماحول بناسکتی ہے اورمسلم رائے دہندگان کو اپنے حق میں لانے کی کوشش کرسکتی ہے۔ دوسری طرف عام آدمی پارٹی نے دہلی میں اپنے 6 امیدواروں کا اعلان کردیا ہے، جس میں سےکوئی بھی مسلم امیدوارنہیں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا گزشتہ لوک سبھا الیکشن کی طرح اس بارپھریہ صرف مطالبہ ہی ثابت ہوتا ہے یا کانگریس اسے عملی جامہ پہناتی ہے۔
      First published: