உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نوٹ بندی بڑا گھوٹالہ ، رافیل معاہدہ پر چھپائے جارہے ہیں حقائق : راہل گاندھی

    راہل گاندھی ۔ فائل فوٹو

    راہل گاندھی ۔ فائل فوٹو

    کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کو پوری طرح زد میں لیتے ہوئے نوٹ بندی کو ’’گھپلہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد سرمایہ دار رفیقوں کو نوازنا تھا۔

    • Share this:
      کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کو پوری طرح زد میں لیتے ہوئے نوٹ بندی کو ’’گھپلہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد سرمایہ دار رفیقوں کو نوازنا تھا۔ ایک پریس کانفرنس میں مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوٹ بندی کوئی غلطی ہر گز نہیں تھی۔ یہ عوام پر ایک حملہ تھا جس کا مقصد چھوٹے کاروباریوں کو ختم کر کے بڑے تاجروں کو فائدہ پہنچانا تھا۔
      ریزرو بینک آف انڈیا نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی نومبر 2016 میں پانچ سو اور ایک ہزار روپے کی مالیت جن کرنسیوں پر پابندی لگائی تھی وہ 99 فیصد بنکاری کے نظام میں واپس آچکی ہیں۔ صدر کانگریس نے کہا یہ کوئی غلطی ہر گز نہیں تھی جس کی معذرت کی جاتی ہے ۔ یہ اقدام قصدا کیا گیا تھا، جس نے ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا۔ملک کے کسانوں ، مزدوروں، چھوٹے دکانداروں اور عام لوگوں کی معیشت تباہ ہوگئی۔ انہوں نے اس تباہی کے لئے مسٹر مودی اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی دونوں کو ذمہ دار گردانا۔
      مسٹر گاندھی نےاستدلال کیا کہ’’ مسٹر مودی کے سرمایہ دار رفقا ان کی مارکٹنگ کرتے ہیں اور وہ عوام سے پیسے چھین کر انہیں دیتے ہیں‘‘۔ واضح رہے کہ مودی حکومت نے نوٹ بندی کو کالا دھن کے خلاف ایک بڑے اقدام سے تعبیر کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے بدعنوانی روکنے اور جعلی کرنسیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
      رافیل ڈیل پر کانگریس صدر نے کہا کہ رافیل معاہدہ پر حکومت جھوٹ بول رہی ہے۔ اس معاہدہ میں حقائق کو چھپایاجارہا ہے ۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا کہ پورا اپوزیشن اور کانگریس پارٹی رافیل ڈیل پر جے پی سی تشکیل دینے پر راضی ہے ۔ بی جے پی اس سے دور کیوں بھاگ رہی ہے۔ بقول راہل ، میں نے ارون جیٹلی کے ذریعہ وزیر اعظم مودی کو ایک آپشن دیا ہے ، جے پی سی کمیٹی بیٹھاکر سوال پوچھتے ہیں ، سب واضح ہوجائے گا ۔ ارون جیٹلی لمبے لمبے بلاگ لکھ رہے ہیں ، لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ۔ اب مجھے معلوم ہے کہ ارون جیٹلی پھنس گئے ہیں۔

      یواین آئی کے ان پٹ کے ساتھ 
      First published: