ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نوٹ بندی معاملہ: نوکری پیشہ افراد کی سب سے بڑی ٹینشن، کس طرح نکلے گی سیلری؟

نوٹ بندی کے 22 دن بعد بھی کیش کی قلت جاری ہے تو ملک کے نوکری پیشہ آدمی کے سامنے تکلیف یہ ہے کہ وہ تنخواہ اکاؤنٹ سے کیسے نکالے گا اور تنخواہ نہیں نکلے گی تو دسمبر کا مہینہ کس طرح کٹے گا؟

  • News18.com
  • Last Updated: Nov 30, 2016 11:12 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
نوٹ بندی معاملہ: نوکری پیشہ افراد کی سب سے بڑی ٹینشن، کس طرح نکلے گی سیلری؟
نوٹ بندی کے 22 دن بعد بھی کیش کی قلت جاری ہے تو ملک کے نوکری پیشہ آدمی کے سامنے تکلیف یہ ہے کہ وہ تنخواہ اکاؤنٹ سے کیسے نکالے گا اور تنخواہ نہیں نکلے گی تو دسمبر کا مہینہ کس طرح کٹے گا؟

نئی دہلی۔ نوٹ بندی  کے خلاف سیاسی جنگ ایک طرف اور پبلک کی پریشانی دوسری طرف۔ نوٹ بندی  کے 22 دن بعد بھی کیش کی قلت جاری ہے تو ملک کے نوکری پیشہ آدمی کے سامنے تکلیف یہ ہے کہ وہ تنخواہ اکاؤنٹ سے کیسے نکالے گا اور تنخواہ نہیں نکلے گی تو دسمبر کا مہینہ کس طرح کٹے گا؟


نوٹ بندی کا آج 22 واں دن ہے، لیکن کیش کی قطاریں اب بھی برقرار ہیں۔ نومبر تو جیسے تیسے گزر گیا، لیکن دسمبر کا کیا ہوگا؟ نیا مہینہ شروع ہوا ہے تو تنخواہ بھی اکاؤنٹ میں گرنے ہی والی ہے۔ نوکری پیشہ طبقے کے ٹینشن کا یہی سبب ہے۔ یا تو تنخواہ اکاؤنٹ میں آ گئی ہے، یا صرف آنے ہی والی ہے، لیکن کریں تو کیا کریں؟ اکاؤنٹ میں پیسہ ہونے کے باوجود کیش نکالنے کی ٹینشن ہے۔


وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے نوٹ بندی  کے بعد اے ٹی ایم مشینیں درست کرنے کے لئے 2 سے 3 ہفتے کا وقت مانگا تھا، لیکن 22 دن گزر جانے کے بعد بھی اے ٹی ایم مشینیں درست ہونی باقی ہیں۔ اکا دکا اے ٹی ایم کام کر رہے ہیں جہاں قطاریں دیکھ کر ہی ڈر لگنے لگتا ہے۔ آر بی آئی نے کیش نکالنے کی حد میں رعایت تو دے دی۔ پہلے سے لگی ہوئی لمبی لمبی قطاروں کی حالت اس وقت کیا ہوگی جب تمام لوگ تنخواہ لینے اسی لائن سے لڑنے پہنچ جائیں گے؟ سوال یہی ہے کہ آر بی آئی کی رعایت کا فائدہ تو تب ملے گا جب بینک کی قطار سے جنگ جیت کر عام آدمی کاؤنٹر پر کیشختم ہونے سے پہلے پہنچ پائے گا۔


وزیر خزانہ کو کالا دھن سفید کرنے والوں کے لئے قانون بنانے کی جلدی ہے، لیکن ہر مہینے اکاؤنٹ میں پڑنے والی سفید رقم بینک سے بٹوے تک پہنچانے کی جلدی کے لئے کوئی نیا قانون نہیں بنا۔ اپوزیشن پارلیمنٹ ٹھپ کر رہا ہے تو کہیں سڑکوں پر دھرنے جاری ہیں، لیکن عام آدمی کے ساتھ یا اس کی جگہ لائنوں میں لگنے والا لیڈر گزشتہ 21 دن میں نہیں نظر آیا۔

First published: Nov 30, 2016 08:48 AM IST