உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اپوزیشن پارٹیوں نے اور تیز کی حملے کی دھار، پارلیمنٹ کے احاطے میں ’سیاہ دن‘ منایا

    نئی دہلی۔ نوٹ کی منسوخی کے معاملے پر حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مسلسل گھیرنے میں مصروف اپوزیشن جماعتوں نے نوٹ کی منسوخی کے اعلان کے ایک مہینہ پورا ہونے پر آج ’سیاہ دن‘ منایا۔

    نئی دہلی۔ نوٹ کی منسوخی کے معاملے پر حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مسلسل گھیرنے میں مصروف اپوزیشن جماعتوں نے نوٹ کی منسوخی کے اعلان کے ایک مہینہ پورا ہونے پر آج ’سیاہ دن‘ منایا۔

    نئی دہلی۔ نوٹ کی منسوخی کے معاملے پر حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مسلسل گھیرنے میں مصروف اپوزیشن جماعتوں نے نوٹ کی منسوخی کے اعلان کے ایک مہینہ پورا ہونے پر آج ’سیاہ دن‘ منایا۔

    • News18.com
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ نوٹ کی منسوخی کے معاملے پر حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مسلسل گھیرنے میں مصروف اپوزیشن جماعتوں نے نوٹ کی منسوخی کے اعلان کے ایک مہینہ پورا ہونے پر آج ’سیاہ دن‘ منایا اور پارلیمنٹ کی عمارت کے احاطے میں کالی پٹیاں باندھ کر مظاہرہ کیا۔ کانگریس، ترنمول کانگریس، سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج وادی پارٹی، بائیں بازو کی جماعتوں، جنتا دل یونائیٹڈ، راشٹریہ جنتا دل، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، ڈی ایم کے اور کچھ دیگر جماعتوں کے رہنما دونوں ایوانوں کی کارروائی شروع ہونے سے کافی پہلے کالی پٹیاں باندھ کر پارلیمنٹ احاطے میں پہنچے اور گاندھی جی کی مورتی کے قریب جمع ہو کر نوٹ کی منسوخی کے خلاف مظاہرہ کیا۔ کچھ رہنما نوٹ کی منسوخی کے خلاف نعرے لکھے پوسٹر بھی لئے ہوئے تھے۔

      مظاہرہ میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی اور پارٹی کے سینئر لیڈر ملک ارجن كھڑگے، غلام نبی آزاد اور آنند شرما، ترنمول کے سدیپ بندھوپادھيائے، ایس پی کے رام گوپال یادو، سی پی ایم کے سیتارام یچوری، جے ڈی یو کے شرد یادو، راشٹریہ جنتا دل کے جے پرکاش یادو وغیرہ رہنما شامل تھے۔

      اپوزیشن جماعتوں کا الزام ​​ہے کہ حکومت نے نوٹ کی منسوخی کا قدم بغیر سوچے سمجھے اٹھایا ہے اور اس سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔ کسانوں، مزدوروں اور غریبوں کو بھاری پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے اور کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے۔ نوٹ کی منسوخی پر بحث کے سلسلے میں پارلیمنٹ میں سرمائی اجلاس کے آغاز سے ہی تعطل قائم ہے اور کوئی کام کاج نہیں ہو پا رہا ہے۔

      اپوزیشن پارٹیاں لوک سبھا میں نوٹ کی منسوخی کے معاملے پر ووٹنگ کے نظم والے اصول کے تحت بحث کرانے کا مطالبہ کر رہی ہیں جبکہ حکومت بغیر ووٹنگ والے اصول کے تحت بحث کرانا چاہتی ہے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ بحث کے دوران وزیر اعظم موجود رہیں اور اس کا جواب دیں اور پارلیمنٹ کے باہر اپوزیشن جماعتوں پر کئے گئے تبصرے کے لئے معافی مانگیں۔


      ملکا ارجن کھڑگے، رہنما کانگریس: ہم لوگ گول شفٹ نہیں کر رہے ہیں۔ بغیر سوچے سمجھے قدم اٹھایا ہے اس سے پورے ملک میں عام آدمی لائن میں لگا ہے۔ بیرون ملک میں بھی نوٹ بندی کے چلتے شبیہ خراب ہوئی ہے۔ ہر دانشور اس کی تنقید کر رہا ہے۔ تمام لوگ فکر مند ہیں۔ اس میں حکومت ناکام ہو گئی۔ اڈوانی جی کے کہنے کے بعد ان پر کتنا اثر ہوا، ہم کو نہیں معلوم۔ ہم چاہتے ہیں بحث ہو، عوام کو ریلیف ملے۔ بلیک ڈے منا رہے ہیں، 30 دن ہو گئے، پھر بھی لوگ پریشان ہیں۔

      parliament_notebandi3

      شرد یادو، جے ڈی یو: اڈوانی جی بہت سینئر لیڈر ہیں۔ پارلیمنٹ چلنی چاہئے۔ نوٹ بندی کے چلتے جن لوگوں کی موت ہوئی ہے، وہ شہید ہوئے ہیں۔ حکومت کو جواب دینا چاہئے۔
      First published: