உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نوٹ بندي کا مقصد صرف پرانے نوٹوں کو منسوخ کرنا نہیں تھا: جیٹلی

    مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی۔ فائل فوٹو

    مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی۔ فائل فوٹو

    بینک کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوٹ بندي کے بعد پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے زیادہ تر پرانے نوٹ بینکوں میں واپس آ گئے۔

    • Share this:
      وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے جمعرات کو کہا کہ نوٹ بندي کا مقصد صرف لوگوں کے پاس پڑے پرانے نوٹوں کو منسوخ کرنا ہی نہیں تھا بلکہ اس کے بہت وسیع مقاصد تھے جن میں معیشت کو مضبوط بنانا اور کالا دھن پر لگام لگانا بھی شامل ہے۔

      بدھ کے روز ریزرو بینک کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوٹ بندي کے بعد پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے زیادہ تر پرانے نوٹ بینکوں میں واپس آ گئے۔ قیمت کے لحاظ سے ان میں سے 99.3 فیصد نوٹ بینکوں کے پاس واپس آئے ہیں۔


      اس پر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں مسٹر جیٹلی نے کہا کہ نوٹ بندي کا مقصد صرف لوگوں کے پاس پڑے نوٹوں کو منسوخ کرنا ہی نہیں تھا، بلکہ اس کے بہت سے وسیع مقاصد تھے اور نوٹ بندي کے مثبت اثرات ہوائے ہيں۔ معیشت زیادہ رسمی بنی ہے اور نظام میں زیادہ پیسہ آیا ہے۔ ٹیکس کلیکشن اور اخراجات بڑھا ہے۔ نوٹ بندي کی دو چوتھائی کے بعد ترقی میں بھی تیزی آئی۔


      واضح رہے کہ آر بی آئی کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد حکومت پر حملہ بولتے ہوئے کانگریس صدر راہل گاندھی نے نوٹ بندي کو مکمل طور پر ناکام بتایا تھا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ریزرو بینک نے نوٹ بندي والے نوٹو ں پر دو بار رپورٹ جاری کی ہے، جس میں اس نے کہا تھا کہ زیادہ تر نوٹ بینکوں میں جمع کرائے گئے ہیں۔ لیکن، اب یہ کہا جا رہا ہے کہ زيادہ ترنوٹ بینکوں میں جمع کردیئے گئے جس کی وجہ سے نوٹ بندي کامیاب نہیں رہی۔

      First published: