ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نوٹ بندی کا اثر عمرہ پر بھی، مکہ نہیں جا پا رہے عازمین

آٹھ نومبر کے بعد سے مکہ جانے والے تمام گروپ یا تو روک دیئے گئے ہیں یا پھر کینسل کر دیے گئے ہیں۔

  • News18.com
  • Last Updated: Nov 30, 2016 05:18 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
نوٹ بندی کا اثر عمرہ پر بھی، مکہ نہیں جا پا رہے عازمین
آٹھ نومبر کے بعد سے مکہ جانے والے تمام گروپ یا تو روک دیئے گئے ہیں یا پھر کینسل کر دیے گئے ہیں۔

نئی دہلی۔ نوٹ بندی کے مدنظر مذہبی زیارتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ چھوٹے نوٹوں اور بڑے نئے نوٹ نہ ہونے کی وجہ سے عازمین عمرہ کرنے کے لئے مکہ نہیں جا پا رہے۔ آٹھ نومبر کے بعد سے مکہ جانے والے تمام گروپ یا تو روک دیئے گئے ہیں یا پھر کینسل کر دیے گئے ہیں۔ اس کی وجہ سے زائرین بیتاب ہیں۔ وہیں ٹور اینڈ ٹریول ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ ابھی کچھ پتہ نہیں کہ حالات کب تک ٹھیک ہوں گے۔ ہمارا تو یہ سیزن ہی خراب ہو گیا۔


سیزن اور اپنے ضروری انتظامات کو دیکھتے ہوئے ہندوستان سے بہت سارے لوگ اس دوران عمرہ کرنے کے لئے مکہ جاتے ہیں۔ عمرہ کرنے کے لئے جانے کا کوئی بھی وقت متعین نہیں ہے۔ لکھنؤ واقع مرزا ٹور اینڈ ٹریویلس کے مالک مرزا محمد حلیم بتاتے ہیں کہ گزشتہ سال دسمبر میں سیزن شروع ہوا تھا جو جنوری اور فروری تک چلا تھا۔ اس بار نومبر میں ہی سیزن شروع ہو گیا تھا۔ لیکن افسوس کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑنے لگے۔ 9 نومبر سے نوٹ بندی کے چلتے ساری تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں۔ ایئر لائنز کے ساتھ ہر سال جو تیاری رہتی ہے اس میں بھی ہمیں نقصان اٹھانا پڑا۔


دسمبر سے تو ہمارے 100-100 لوگوں کے گروپ جانے والے تھے، لیکن نوٹ بندی کے چلتے لوگوں نے کینسل کرا لیا ہے۔ کچھ ہیں جنہیں امید ہے کہ جلد ہی حالات ٹھیک ہوں گے تو انہوں نے دسمبر۔ جنوری کی تاریخ لے لی ہے۔ آگرہ کے ٹور آپریٹر مولانا كليم الدین بتاتے ہیں کہ عمرہ کے دوران کم سے کم 50 سے 60 ہزار روپے کا خرچ آتا ہے۔ رہنے کھانے کا انتظام تو ٹور آپریٹر ہی کرا دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ہر کسی کا آٹھ سے دس ہزار روپے خرچ ہو جاتا ہے۔


اس میں چائے پانی سے لے کر لوکل آنے جانے کا کرایہ اور اپنے ملک میں لانے کے لئے کھجور اور آب زم زم سمیت دوسری مذہبی چیزیں بھی خریدنی ہوتی ہیں۔ علی گڑھ میں ٹریول ایجنسی چلانے والے آصف علی کی مانیں تو ملک بھر سے ہر ماہ 80 ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک زائرین عمرہ کے لئے جاتے ہیں۔

آٹھ نومبر کو پہنچے تھے مکہ اور نوٹ بندی میں پھنس گئے

آٹھ نومبر کی صبح آگرہ سے 26 لوگوں کا ایک گروپ مکہ کے لئے روانہ ہوا تھا۔ گروپ اپنے صحیح وقت پر رات کے وقت مکہ پہنچ گیا۔ رات کو جاتے ہی عازمین اپنے ہوٹل میں رک گئے۔ صبح ہوٹل سے باہر نکلے تو پتہ چلا کہ چائے پینے کے لئے انہیں وہاں کی کرنسی ریال چاہئے۔ جب انہوں نے ہندوستانی نوٹ تبدیل کرانے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ رات کو ہندوستانی کرنسی بند کر دی گئی ہے۔ منی ایکسچینجر والے نے بھی عمرہ عازمین کے ہندوستانی ایک ہزار اور 500 کے نوٹ تبدیل کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ سنتے ہی زائرین کے پاؤں تلے زمین کھسک گئی۔

پرنٹنگ مشین کا کاروبار کرنے والے عمرہ پر گئے اشراق نے بتایا کہ عازمین ہندوستانی سفارت خانے پہنچے تو دو دن مسلسل سفارت خانہ بند ملا۔ تیسرے دن کھلا تو ملا لیکن سفارت خانے کے حکام نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوئی آر بی آئی نہیں ہیں جو نوٹ کو تبدیل کریں۔ اشراق بتاتے ہیں کہ اس دوران اندور کے ایک نوجوان نے وہاں ہم لوگوں کی چھوٹی نوٹ سے بڑی مدد کی۔ تب کہیں جا کر ہم نے عمرہ کیا اور اپنے ملک واپس لوٹ کر آئے۔

ناصر خان کی رپورٹ
First published: Nov 30, 2016 05:07 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading