اپنا ضلع منتخب کریں۔

    واٹس ایپ ہیک ہونے کی کیا ہے وجہ؟ آخر 2 گھنٹوں تک واٹس ایپ کیوں رہا بند؟ وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی مانگے گی جواب

    آیا سائبر حملہ ڈاؤن ٹائم کے لیے ذمہ دار تھا یا اس کی کوئی اور وجہ ہے۔

    آیا سائبر حملہ ڈاؤن ٹائم کے لیے ذمہ دار تھا یا اس کی کوئی اور وجہ ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ وزارت آئی ٹی سائبرسیکیوریٹی کے پہلو کو دیکھ رہی ہے اور جاننا چاہتی ہے کہ آیا سائبر حملہ ڈاؤن ٹائم کے لیے ذمہ دار تھا یا اس کی کوئی اور وجہ ہے۔ میٹا کو انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (CERT-IN) وزارت آئی ٹی کے تحت ہندوستان کے سائبر سیکیورٹی واچ ڈاگ کو بندش کی وضاحت کرنے والی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Jammu | Hyderabad | Lucknow | Farakhpur
    • Share this:
      میٹا کی ملکیت والے میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ (WhatsApp) کو 25 اکتوبر 2022 کو ہندوستان اور دیگر کئی ممالک میں اب تک کی سب سے طویل بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ واٹس ایپ تقریباً دو گھنٹے تک مکمل طور پر بند رہا۔ یہ بندش رات 12 بجے کے قریب شروع ہوئی جس میں ابتدائی طور پر کچھ صارفین متاثر ہوئے اور اس کے بعد بہت جلد واٹس ایپ سروسز کا مکمل بلیک آؤٹ ہو گیا۔ جس کی وجہ سے کئی صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

      اب حکومت نے قدم بڑھایا ہے۔ وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے میٹا سے کہا ہے کہ وہ یہ جاننے کے لیے ایک رپورٹ پیش کرے کہ واٹس ایپ کو 2 گھنٹے تک بند ہونے کا سامنا کیوں کرنا پڑا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزارت آئی ٹی سائبرسیکیوریٹی کے پہلو کو دیکھ رہی ہے اور جاننا چاہتی ہے کہ آیا سائبر حملہ ڈاؤن ٹائم کے لیے ذمہ دار تھا یا اس کی کوئی اور وجہ ہے۔ میٹا کو انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (CERT-IN) وزارت آئی ٹی کے تحت ہندوستان کے سائبر سیکیورٹی واچ ڈاگ کو بندش کی وضاحت کرنے والی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔

      وی بات قابل ذکر ہے کہ 25 اکتوبر 2022 کو واٹس ایپ سروس گھنٹوں ٹھپ رہی۔ اب لوگوں کو اپنے تمام پرانے پیغامات ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ صارفین ایک دوسرے کو پیغامات بھیجنے کے قابل بھی ہیں۔ منگل کی دوپہر 12 بجے کے قریب شروع ہونے والی آؤٹیج کے بعد صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ عالمی سطح پر ہوا ہے۔ خرابی کا پتہ لگانے والی ویب سائٹ ڈاؤن ڈیڈیکٹر نے دوپہر 12.07 سے بڑی تعداد میں مسائل سے متعلق شکایات کی اور دوپہر 1 بجے تک ایسی 25,000 سے زیادہ رپورٹیں درج کی گئی تھی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: