ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر میں سکیورٹی ایجنسیوں کے لئے نئی مصیبت بنے ڈجیٹل سم کارڈ، پلوامہ دہشت گردانہ حملے میں 40 سے زیادہ سم کارڈ ہوئے تھے استعمال

افسران نے کہا کہ قومی جانچ ایجنسی (NIA) اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کے ذریعے کی گئی تفصیلی جانچ میں یہ اشارہ ملا ہے کہ اکیلے پلوامہ دہشت گردانہ حملے کیلئے 40 سے زیادہ ڈجیٹل سم کارڈس کا استعمال کیا گیا تھا اور وادی میں ابھی بھی ایسے ڈجیٹل سم کارڈ موجود ہیں۔ یہ ایک بالکل نیا طریقہ ہے جس میں سرحد پار کے دہشت گرد ڈجیٹل سم کارڈ کا استعمال کر رہے ہیں۔

  • Share this:
کشمیر میں سکیورٹی ایجنسیوں کے لئے نئی مصیبت بنے ڈجیٹل سم کارڈ، پلوامہ دہشت گردانہ حملے میں 40 سے زیادہ سم کارڈ ہوئے تھے استعمال
ڈجیٹل سم کارڈ (Digital Sim Card) سکیورٹی ایجنسیوں (Security Agencies) کے لیے نیا سر درد

جموں کشمیر (Jammu Kashmir) میں ڈجیٹل سم کارڈ (Digital Sim Card) سکیورٹی ایجنسیوں (Security Agencies) کے لیے نیا سر درد بنتے جا رہے ہیں۔ کیونکہ وادی میں دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے اپنے پاکستانی آقاؤں سے رابطہ قائم کرنے کے لئے ان کا استعمال کیا جارہا ہے۔ افسران نے یہاں یہ جانکاری دی۔ اس نئی ٹکنالوجی کے استعمال کی جانکاری 2019 میں سامنے آئی جب امریکہ نے یہ درخواست کی کہ وہ پلوامہ حملے (Pulwama Terror Attack) میں جیش محمد (Jaish-E-Mohammad) کے خودکش حملہ آور کے ذریعے کئے گئے ڈجیٹل سم کارڈ کی تفصیل سروس پرووائیڈر (service provider) سے مانگے۔ واضح رہے کہ اس دہشت گردانہ حملے میں سی آر پی ایف (CRPF) کے 40 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے

افسران نے کہا کہ قومی جانچ ایجنسی (NIA) اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کے ذریعے کی گئی تفصیلی جانچ میں یہ اشارہ ملا ہے کہ اکیلے پلوامہ دہشت گردانہ حملے کیلئے 40 سے زیادہ ڈجیٹل سم کارڈس کا استعمال کیا گیا تھا اور وادی میں ابھی بھی ایسے ڈجیٹل سم کارڈ موجود ہیں۔ یہ ایک بالکل نیا طریقہ ہے جس میں سرحد پار کے دہشت گرد ڈجیٹل سم کارڈ کا استعمال کر رہے ہیں۔ جو کسی غیر ملکی سروس پرووائیڈر (service provider) کے ذریعے جاری کئےگئے ہیں۔ اس تکنیک میں کمپیوٹر پر ایک ٹیلی فون نمبر بنایا جاتا ہے اور کسٹمر سروس پروائیڈر (service provider) کا ایک ایپ اپنے اسمارٹ فون پر ڈاؤن لوڈ کر لیتا ہے۔

یہ نمبر وہاٹس ایپ، فیس بک، ٹیلی گرام یا ٹویٹر جیسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس سے جڑا رہتا ہے۔ اس سروس کو شروع کرنے کیلئے ویریفکیشن کا کوڈ ان نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے بنایا جاتا ہے اور اسمارٹ فون پر حاصل کیا جاتا ہے۔ پہلے سے ہی جڑا ہوتا ہے ملک کا کوڈ ۔افسران نے کہا کہ استعمال کئے جانے والے نمبر میں ملک کا کوڈ یا موبائل اسٹیشن انٹرنیشل سبسکرائبر ڈائریکٹری نمبر (MSISDN) نمبر پہلے جڑا ہوتا ہے۔ انہوں نے کیا کہ امریکہ، کناڈا، برطانیہ، اسرائیل کی ٹیلی کام کمپنیوں کے علاوہ پیورتو ریکو اور امریکہ کے کنٹرول والے ایک کیریبیائی جذیرے کے نمبر ابھی (available) نظر آرہے ہیں۔

افسران نے کہا کہ ہر موبائل فون ڈیوائس کو تفصیلی فارنسک جانچ کیلئے بھیجا جارہا ہے جس سے یہ پتہ لگایا جا سکے کہ کیا ان کا استعمال کبھی ڈجیٹل سم کارڈ کیلئے تو نہیں ہوا۔ ایک عہدیدار نے کہا، دہشت گرد کے خلاف لڑائی میں تکنیک کے اپنے اچھے اور برے پہلو ہوتے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کو نہ صرف وقت کے ساتھ خود کو اپ گریڈ کرنا ہوتا ہے بلکہ ان کے غلط استعمال کی سازش رچنے والوں کو روکنے کیلئے ان سے ایک قدم آگے سوچنا پڑتا ہے۔

ممبئی  26/11  حملوں (26/11 attack) کی جانچ کے دوران یہ پایا گیا کہ کال فونیکس کو ویسٹرن یونین منی ٹرانسفر کے ذریعے 229  امریکی ڈالر کی ادائیگی کی گئی تھی جس سے حملوں کے دوران استعمال کی گئی وائس آور انٹرنیٹ پروٹوکول (VOIP) کو چالو کیا گیا تھا۔ یہ رقم رسید نمبر  8364307716-0 کے ذریعے ٹرانسفر کی گئی تھی۔

Published by: sana Naeem
First published: Oct 04, 2020 11:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading