உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدرسوں میں ں تعلیم حاصل کرنے والے دہشت گرد نہیں بن رہے ہیں ڈاکٹر و انجینئر آی اے ایس اور پی سی ایس: اشفاق سیفی

     مدرسوں میں ں تعلیم حاصل کرنے والے دہشت گرد نہی بن رہے ہیں ڈاکٹر و انجینئر آی اے ایس اور پی سی ایس بن رہے ہیں۔ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کچھ لوگ  ایسے بیان دیتے ہیں۔

     مدرسوں میں ں تعلیم حاصل کرنے والے دہشت گرد نہی بن رہے ہیں ڈاکٹر و انجینئر آی اے ایس اور پی سی ایس بن رہے ہیں۔ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کچھ لوگ  ایسے بیان دیتے ہیں۔

     مدرسوں میں ں تعلیم حاصل کرنے والے دہشت گرد نہی بن رہے ہیں ڈاکٹر و انجینئر آی اے ایس اور پی سی ایس بن رہے ہیں۔ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کچھ لوگ  ایسے بیان دیتے ہیں۔

    • Share this:
    پورے ملک کے مدرسوں کو بند کرانے کے بی جے پی لیڈر اور وزیر مملکت یو پی حکومت ٹھاکر رگھو راج سنگھ کے دیے متنازعہ بیان پر یو پی ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اشفاق سیفی نے ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مدارس سے دہشت گرد نہیں ملک اور ملّت کی خدمات کرنے والے آی اے ایس اور پی سی ایس نکلتے ہیں اس طرح کے متنازعہ بیان دینے والے افراد محض میڈیا کی سرخیاں اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس طرح کی حرکت کرتے ہیں میرٹھ میں میڈیا کو خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت رگھو راج سنگھ کے مدرسوں کو لیکر دیے گئے متنازعہ بیان کے حوالے سے سوال کیے جانے پر اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اشفاق سیفی نے ردِعمل ظاہر کی۔
    ہندو اور مسلمانوں میں نفرت پیدا کرکے سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اویسی یہ کہنا ہے یو پی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اشفاق سیفی کا آج میرٹھ پہنچے اشفاق سیفی نے مسلمانوں کو لیکر دیے جا رہے بیانات اور سیایت پر اسد الدین اویسی اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو تنقید کا نشانہ بنایا اشفاق سیفی نے کہا ایک طرح اویسی جہاں ہندو مسلمان کے درمیان دوریاں پیدا کرکے اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں کچھ لیڈر جناح کی تعریف کرکے اپنا نظریہ ظاہر کر رہے ہیں اشفاق سیفی نے کہا ہندوستان کا مسلمان پہلے بھی جناح کے خلاف تھا اور آج بھی جناح کے نظریے سے اتفاق نہیں رکھتا ہے۔

    وہیں سی اے اے اور این آر سی کے مسئلہ پر ارشد مدنی کے بیان پر اقلیتی کمیشن چیئرمین اشفاق سیفی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسے سماجوادی اور اویسی کے نظریے سے متاثر بیان قرار دیا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: