ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی تشدد: شرپسند عناصر نےنیوز18 کی رپورٹر سےکہا- تصویرمت لو، جونظرآرہا ہے، اس کامزہ لو

وہاں جوکچھ بھی ہورہا تھا، اسے شوٹ یا ریکارڈ کرنےکی ہمیں اجازت نہیں تھی۔ بھیڑ نے ہمیں دھمکی دیتے ہوئےکہا کہ اپنےفون جیب سے باہرمت نکالو اورجو ہورہا ہے، اس کا مزہ لو۔

  • Share this:
دہلی تشدد: شرپسند عناصر نےنیوز18 کی رپورٹر سےکہا- تصویرمت لو، جونظرآرہا ہے، اس کامزہ لو
توڑ پھوڑ کے بعد متعدد دکانوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔

نئی دہلی: مجھےلگا میں کوئی فلم دیکھ رہی ہوں۔ وہاں کا منظر خوفناک تھا۔ آدمی تلوار، لوہےکی راڈس اور ہاکی اسٹکس چلا رہے تھے، ان میں سے کئی ہیلمیٹ پہنے ہوئے تھے اور وہ سبھی 'جے شری رام' چلا رہے تھے۔ جیسے ہی وہ گھروں میں گھستے وہاں سے عجیب سے آواز آتی۔ کچھ منٹوں بعد میں نے اس گھرکی کھڑکی سے آگ کی لپٹیں دیکھیں۔ میں دو دیگر رپورٹرس کے ساتھ شمال مشرقی دہلی کے کھجوری خاص علاقے میں ایک بڑے سیورنالےکی دوسری طرف کھڑی تھی۔ وہاں جو کچھ بھی ہورہا تھا، اسے شوٹ یا ریکارڈ کرنے کی ہمیں اجازت نہیں تھی۔ بھیڑ نے ہمیں دھمکی دیتے ہوئےکہا کہ اپنے فون جب سے باہرمت نکالو اور جو ہو رہا ہے، اس کا مزہ لو۔


گھروں کو جلنے کے لئےچھوڑ دیا گیا


ہمارے سامنے اور پیچھےکی گلیوں میں پتھر بازی ہورہی تھی اور تیزاب پھینکا جارہا تھا۔ وہیں ایک مذہبی مقام کا ڈھانچہ بھی جلایا جارہا تھا۔ ہمیں اس کے قریب جانےکی اجازت نہیں تھی، لیکن کالے دھوئیں کا اٹھتا غباردور سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ میں وہاں بے بس ہوکرکھڑی گھروں کو نست ونابود ہوتے ہوئےدیکھ رہی تھی۔ میں حیران تھی کہ کیوں پولیس جائےحادثہ پرنہ ہوکر کئی کلو میٹر دور کھڑی ہے۔ اگر رپورٹرس کو اطلاع مل سکتی ہے تو پولیس کو بھی مل سکتی ہے۔


بھیڑ نےخوشی ظاہر کی اور گھروں کو جلنےکےلئے چھوڑ دیا۔ فخر سے لبریز اس بھیڑنےہمیں ایک تصویر لینےکی اجازت دی۔ ہم وہاں سے دوسرے لوکیشن پر پہنچےجوکہ پرانےموجپور سے تھوڑی ہی دوری پر تھی۔ ہم نےاس راستے میں ہتھیاروں سےلیس بھیڑدیکھی۔ حالانکہ پورے علاقے میں دفعہ 144 نافذ تھی۔ پرانے موجپور کے پاس میت نگر میں ایک دیگر مذہبی ڈھانچہ توڑا جارہا تھا۔ 300-200 کی تعداد میں لوگ ایک مقدس مقام کو توڑ رہےتھے۔ ڈھانچےکے اندر آگ لگا دی گئی تھی، جس کے دھوئیں کا غبار باہر تک آرہا تھا۔

ہتھیار بند لوگوں کو لفٹ دے رہے تھے پولیس اہلکار

میں این ڈی ٹی وی کے دو رپورٹرس سوربھ شکلا اور اروندگنا سیکرکےساتھ رپورٹنگ کر رہی تھی۔ ہم نے اپنی گاڑیاں روک دیں، یہ مین روڈ نہیں تھا، نہ ہی فلائی اوور کے پاس والی سڑک تھی، نہ ہی آس پاس گلیاں تھیں، میں نے دیکھاکہ کچھ پولیس والےبائیک پر آرہے ہیں اور ہتھیار پکڑے ہوئے لوگوں کو لفٹ دے رہے تھے۔

جیسا کوئی بھی رپورٹرکرتا، اروند گناسیکرنے اپنے موبائل فون سے ریکارڈنگ کرنی شروع کردی، جوکہ انہوں نے اپنی شرٹ کی جیب میں رکھا ہوا تھا۔ کچھ ہی منٹ میں تقریباً 50 لوگ لوہےکی راڈ اور ہاکی اسٹک لئےہوئے ہماری طرف آنےلگے۔ جب تک ہم یہ سب سمجھ پاتے، انہوں نے اروند پرحملہ بول دیا۔ کئی لوگ ہماری طرف بڑھے۔ سوربھ شکلا اورمیں نے اپنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بھیڑ سےکہا کہ وہ ہم تینوں کو جانیں دیں۔ ہم باربارکہہ رہے تھےکہ ہمیں معاف کردیجئے، غلطی ہوگئی، ہم صحافی ہیں، لیکن ان پر کسی بات کا اثر نہیں ہو رہا تھا۔

فون سے ڈیلیٹ کروائی ہر تصویر اور ویڈیو

کئی منٹ تک اروند کو مسلسل پیٹنے کے بعد، انہوں نے اس کے فون کے ہر ویڈیو اور تصویر کو ڈیلیٹ کروا دیا۔ اس کے بعد ہی انہوں نے اسے جانےدیا۔ وہ لنگڑا رہا تھا اور منہ سے خون بہہ رہا تھا۔ اس کا ایک دانت غائب تھا جبکہ دو دیگر ٹوٹے ہوئے تھے۔ جیسے ہی میں اور اروند اپنی گاڑیوں کے پاس پہنچےجوکہ تھوڑی ہی دوری پر کھڑی ہوئی تھیں، ہمیں خوف کے ساتھ احساس ہوا کہ بھیڑ نے ہمارے ساتھ موجود ایک دیگر رپورٹر سوربھ شکلا کو گھیر رکھا ہے۔ بھیڑ نے انہیں گھیرکرکہا کہ وہ اپنے فون سے سبھی تصویر اور ویڈیو ڈیلیٹ کریں ورنہ ان کے فون کو آگ لگا دی جائے گی۔

پوچھا گیا ہمارا مذہب

میں واپس گئی اور پھر بھیڑ سے گزارش کی۔ میرا فون میری ٹرینک پینٹ میں رکھا ہوا تھا، لیکن میں نے ان سے کہا کہ وہ کار میں ہے۔ میں نے گزارش  کی کہ وہ میرے ساتھ ایسا کچھ نہ کریں اور شکر ہےکہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے ہم سے ہمارا مذہب پوچھا۔ میں نے انہیں اپنا پریس کارڈ دکھایا۔ میں نے انہیں اپنا سرنیم 'شرما' بھی بتایا۔ سوربھ شکلا نے اپنی رودراچھ کی مالا انہیں دکھائی۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا ہم ان میں سے ایک ہیں۔ کئی منٹ بھیک مانگنے اورگزارش کرنےکے بعد اور سب سے ضروری اپنی مذہبی شناخت بتانے کے بعد انہوں نے ہمیں جانے دیا۔ ہم اپنے ہاتھ جوڑ کر وہاں سے آگئے۔ وہ الوداع کے طور پر ہم سے جے شری رام بلوانا چاہتے تھے۔

رنجھن شرما کی رپورٹ
First published: Feb 26, 2020 11:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading