உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندستان میں 400 سے زیادہ غیر مسلم افراد نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح سرائی کی

    ہندستان میں 400 سے زیادہ غیر مسلم افراد نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح سرائی کی

    ہندستان میں ایسے چار سو سے زیادہ غیر مسلم افراد ماہرین شعراء رہے ہیں جنھوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں قصائد کہے اور ان کا غیر معمولی کنٹریبوشن ہے ۔

    • Share this:
    نئی دہلی : ہندستان میں ایسے چار سو سے زیادہ غیر مسلم افراد ماہرین شعراء رہے ہیں جنھوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں قصائد کہے اور ان کا غیر معمولی کنٹریبوشن ہے ۔ ہندستانی ثقافت اور گنگا جمنی تہذیب کا روشن پہلو ایران کلچر ہاﺅس میں اس وقت سامنے آیا ، جب ڈاکٹر دھرمندرناتھ کی کتاب کے رسم اجرا تقریب کے دوران مقررین نے ڈاکٹر دھرمندر ناتھ کی اس تحقیق کا تذکرہ کیا ، جس میں انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر غیر مسلم افراد کی حصولیابی اور علمی کارناموں ، مدح سرائی اور شعرا کے کام کو لے کر تحقیق کی اور ایسے شعرا اور مصنفین کی تعداد ایک دو سو دوسو نہیں بلکہ چار سو سے زیادہ ہے ۔

    اس موقع پر ڈاکٹر دھرمندر ناتھ کے فرزند مہندر ناتھ نے بتایا کہ ان کے والد کی 25 سے زیادہ کتابیں ہیں ۔ آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں ، لیکن ان کی کتاب ہمارے علی کا رسم اجرا ہوا ۔ اس سلسلہ میں ان کی پہلی کتاب ہمارے رسول بھی تھی ۔ مہندرناتھ نے کہا کہ ان کے والد گنگا جمنی تہذیب اور امن و بھائی چارہ میں یقین رکھتے تھے ۔ آج ایسے وقت میں ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنایا جارہا ہے ، ان کی والد کی کاوش سامنے آئی ہے ۔ اس سے قبل ایک ویڈیو کلپ بھی پروگرام میں چلائی گئی،  جس میں ڈاکٹر دھرمندر نے کہا کہ رسول صرف مسلم سماج کے نہیں سب کے ہیں ۔

    اس موقع پر سفیر ایران برائے ہند ڈاکٹر علی چگینی کہا کہ ہندستان اور ایران کے تعلقات اور ثقافت کے قریبی رشتے ہیں ، ہمارے علی نامی کتاب اور ڈاکٹر دھرمندر ناتھ اس رشتوں کی عکاسی کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ مذہبی رشتوں کی یہ کتاب اور تقریب علامت ہے ۔ اس سے قبل عید غدیر کی مناسبت سے انٹرنیشنل مائکروفلم سینٹر نورنئید ہلی کے زیراہتمام ہندوستان میں ایران کے سفیر اور دیگر علما ،ادبا کے ہاتھوں ڈاکٹردھرمندرناتھ کی’ہمارے علی ‘، فضل بن حسن طبرسی کی’ نثراللئالی ‘ اور شیخ عبداللہ سماہیجی کی کتاب’ مناجات امیر المومنین‘ کا اجراء عمل میں آیا۔

    اس سلسلے میں آج یہاں ایران کلچرہاوس میں کووڈ گائڈ لائنس پرعمل کرتے ہوئے ایران کلچر ہاوس کے کلچرل کاونسلر ڈاکٹر علی ربّانی کی صدارت میں منعقدہ ایک تقریب میں ہندوستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹرعلی چگینی ، معروف دانشور پروفیسرعزیزالدین ہمدانی ، پروفیسر سید شاہد مہدی، ڈاکٹرعلی رضا قزوہ ، مولانا کلب رشید ، ہرمندرناتھ اور ڈاکٹر سید ناصر حسین (راجیہ سبھا) نے شرکت کی ۔ یہ تقریب خاص طورپر آنجہانی ڈاکٹر مہندرناتھ کی اس کتاب کی رونمائی کے لئے منعقد کی گئی تھی ، جوان کہ زندگی میں نہیں چھپ سکی ۔ وہ کتاب آج انٹرنیشنل مائکرو فلم سینٹر نور کی کاوشوں سے منظرعام پرآئی ، جس کے رسم اجرا میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات نے شرکت کی ۔

    معروف دانشور پروفیسر عزیز الدین ہمدانی نے کہا کہ اگر ہم دھرمندر ناتھ کے بارے میں سوچیں کہ وہ شخص جس کا اسلام سے کوئی ذاتی تعلق نہیں ، اس نے حضرت علیؑ ، امام حسینؑ کے بارے میں کیوں لکھا ؟ اس کا کریڈٹ ان صوفیائے کرام کو جاتا ہے ، جو 12 صدی عیسوی میں ہندوستان آئے اور انہوں جس علاقہ میں قیام کیا ، وہاں کی زبان سیکھی اوراسی زبان میں اسلام کی تبلیغ کی ۔ اس سلسلے میں انہوں نے پنجاب کے مشہور صوفی شیخ فرید الدین گنج شکر کے فارسی میں کہے گئے اشعار کو سکھوں کی مذہبی کتاب گروگرنتھ صاحب کا حصہ بنایا گیا تھا ۔ اسی طرح پنجابی شعرا میں جس طریقہ سے حضرت علیؑ کوخراج عقیدت پیش کیا گیا ہے ، اس کی مثال نہیں ملتی ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: