உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اردوہندوستان کی تہذیب ہی نہیں بلکہ ہندوستانی تہذیب کا چہرہ بھی ہے: ڈاکٹرشیخ عقیل احمد

    کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ قومی کونسل شروع سے ہی اردو دنیا کی ہمہ جہت ترقی کے لئے کوشاں ہے۔ فائل فوٹو

    کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ قومی کونسل شروع سے ہی اردو دنیا کی ہمہ جہت ترقی کے لئے کوشاں ہے۔ فائل فوٹو

    قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹرنےکہا کہ اردو ہندوستان کی تہذیب ہے اور جب تہذیب مٹ جاتی ہے توقوم بھی مٹ جاتی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: اردوکی اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئےقومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹرڈاکٹرشیخ عقیل احمد نےکہا کہ اردوہندوستان کی تہذیب ہی نہیں بلکہ ہندوستانی تہذیب کا چہرہ بھی ہےاورچہرہ کتنا خوبصورت ہوتا ہے، اس سےکون انکارکرسکتا ہے۔ یہ بات انہوں نےآج یہاں غالب اکیڈمی میں ادبی ثقافتی تنظیم تہذیب کے زیراہتمام سید ضیاء الرحمان غوثی کی کتاب ’غبار دل‘ کا اجرا انجام دیتے ہوئے کہی۔

      ڈاکٹرشیخ عقیل احمد نےکہا کہ اردو ہندوستان کی تہذیب ہےاورجب تہذیب مٹ جاتی ہےتوقوم بھی مٹ جاتی ہے۔ انہوں نے اردو کے فروغ پرزور دیتے ہوئے مساجد کے اماموں سے درخواست کی کہ وہ اپنے خطبے میں جہاں دیگرمسائل کا ذکرکرتے ہیں وہیں وہ نمازیوں سے اپنے بچوں کواردو پڑھانےکےلئے درخواست کریں۔ انہوں نےاردو کی زبوں حالی اردو رسائل وجرائد کی کمی اورکم ہوتے قاری کی تعداد پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئےکہا کہ جب ہم ابتدائی سطح پراردوکی تعلیم رائج نہیں کریں گے، یہ مسئلہ قائم رہےگا۔
      کونسل کے ڈائریکٹرنےاردوکونسل کی کارکردگی کا ذکرکرتے ہوئےکہا کہ ڈائرکٹرکا عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نےاردوکی ابتدائی تعلیم پرسب سے زیادہ زوردیا اورجس ریاست میں بھی جاتے ہیں وہاں کے چیف سکریٹری اوریا اس سطح کے افسرملاقات کرکےاردو کی تعلیم کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہرریاست میں اردو کی ابتدائی سطح کی تعلیم شروع ہوگی توبچوں کا ادبی رسالہ کوقاری بھی ملےگا اوررسالہ کامعیار بھی بلند ہوگا۔


      انہوں نے اردو کی زبوں حالی کے لئے اردو والوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہاکہ اردو کےاساتذہ ہی اپنے بچوں کو اردو نہیں پڑھاتے انہیں اردو کے فروغ کی کوئی فکر نہیں۔
      قومی کونسل کے ڈائرکٹرنے'غباردل‘ کے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ان کا بنیادی طورپراردو کے سچے خادم ہیں اردو کے تئیں لگاؤ اوراردو کی زبوں حالی پران کا درد ان کےاداریہ میں جھلکتا ہے اورانہوں نے صحافت میں قدم اس وقت رکھا تھا جب ان کی عمر محض 10 سال تھی اوراس عمرمیں انہوں نے قلمی رسالہ کہکشاں شروع کیا تھا۔
      جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسرشہزاد انجم نے کہا کہ اس کتاب میں کچھ توبات ہے۔ اس میں صرف تلخ نوائی ہی نہیں بلکہ اس میں سچائی، بے باکی اورحق گوئی بھی ہے۔ انہوں نے بے باکی کے ساتھ تمام مسائل پرلکھا ہےاورقومی وبین الاقوامی مسائل پربے باک رائے کا اظہار کیا ہےاورکسی لمحے اپنے ضمیرکی آوازکودبنے نہیں دیا ہے۔
      First published: