ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مسلمان اپنی مادری زبان اردو کی ترقی وترویج کے لئے حتی المقدور کوشش کریں: شکیل صمدانی

علی گڑھ ۔ سرسید ایجوکیشنل سوسائٹی نے مسلم یونیورسٹی کے معروف اساتذہ اور محبان اردوپروفیسر انصار اللہ، پروفیسر صغیر افراہیم، پروفیسر شکیل صمدانی اور پروفیسر شیخ مستان کا استقبال کیا۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Aug 04, 2016 09:30 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مسلمان اپنی مادری زبان اردو کی ترقی وترویج کے لئے حتی المقدور کوشش کریں: شکیل صمدانی
علی گڑھ ۔ سرسید ایجوکیشنل سوسائٹی نے مسلم یونیورسٹی کے معروف اساتذہ اور محبان اردوپروفیسر انصار اللہ، پروفیسر صغیر افراہیم، پروفیسر شکیل صمدانی اور پروفیسر شیخ مستان کا استقبال کیا۔

علی گڑھ ۔ سرسید ایجوکیشنل سوسائٹی کی جانب سے مسلم یونیورسٹی کے معروف اساتذہ اور محبان اردوپروفیسر انصار اللہ، پروفیسر صغیر افراہیم، پروفیسر شکیل صمدانی اور پروفیسر شیخ مستان کا استقبال کیا گیا۔ ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر شیخ مستان نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تعلیم کے ساتھ تربیت بھی فراہم کرتی ہے جو عام طور پر دوسری یونیورسٹیوں میں نہیں ملتی، انھوں نے کہا کہ علی گڑھ آکر بہت کچھ سیکھا اور خاص طور سے اردو زبان سیکھی جس کا سہرا پروفیسر انصار اللہ صاحب کے سر جاتا ہے۔


            سرسید اویرنیس فورم کے صدر اور مسلم یونیورسٹی کے معروف استاد پروفیسر شکیل صمدانی نے کہا کہ سرسید نے یونیورسٹی کا قیام مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ان میں سائنسی شعور پیدا کرنے کے لئے کیا تھا، الحمد للہ یونیورسٹی نے اپنے قیام سے اب تک ملت اسلامیہ کے ساتھ ساتھ ملکِ عزیز ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں نمایاں رول ادا کیا۔ بد قسمتی سے مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار خطرے میں ہے۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ مسلم یونیورسٹی کی انتظامیہ بالخصوص وائس چانسلر(لیفٹیننٹ جنرل) ضمیر الدین شاہ اور پرو وائس چانسلر (بریگیڈیئر) سید احمد علی انتہائی جانفشانی، دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ یونیورسٹی کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اور اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ فیصلہ یونیورسٹی کے حق میں ہوگا۔ انھوں نے جلسہ میں موجود حاضرین سے درخواست کی کہ وہ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردارکی بحالی کے لئے دعا کریں اور وائس چانسلر صاحب پر مکمل اعتماد رکھیں۔


            اخیر میں پروفیسر صمدانی نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے اور اپنے خاندان کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ ملت اور ملک کی فلاح و بہبود کے کام میں لگ جانا چاہئے اوروہ اپنی مادری زبان اردو کی بقاء اور ترقی کے لئے دامے درمے سخنے قدمے کوشش کریں۔ انھوں نے سوسائٹی کی جانب سے استقبالیہ دیئے جانے پر مجاہد اردو محمد مطیع الغفار کو مبارکباد دی۔


            سوسائٹی کی جانب سے مہمانان گرامی کو یادگاری نشانات پیش کئے گئے۔ پروگرام میں پروفیسر احتشام احمد ندوی، محمد فرحان، سید مسرت علی، بشیر الحسن وفا نقوی، گورے آزاد، مبشر قمر، ماسٹر عبدالقدیر، ڈاکٹر عائشہ انصاری، مبشرہ غفار، ڈاکٹر سمرین، مطیع الرب، فرہین صدیقی، سمیہ صدیقی اور چاندی عثمانی وغیرہ نے شرکت کی۔


First published: Aug 04, 2016 09:30 AM IST