ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اسکولوں میں سوریہ نمسکار کو لازمی قرار دینے سے متعلق بی ایم سی کے حکم کو سپریم کورٹ سے معطل کرنے کا مطالبہ

بزرگ سماجی کارکن اور ممتاز مسلم دانشور ڈاکٹر سید ظفر محمود نے اسکولوں میں 'سوریہ نمسکار' کو لازمی قرار دینے سے متعلق بمبئي میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے حکم کو منسوخ کرنے کے لئے سپریم کورٹ کی مداخلت کا مطالبہ کیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 09, 2016 12:35 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اسکولوں میں سوریہ نمسکار کو لازمی قرار دینے سے متعلق بی ایم سی کے حکم کو سپریم کورٹ سے معطل کرنے کا مطالبہ
زکوٰۃ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر سید ظفر محمود: فائل فوٹو

نئي دہلی:  بزرگ سماجی کارکن اور ممتاز مسلم دانشور ڈاکٹر سید ظفر محمود نے اسکولوں میں 'سوریہ نمسکار' کو لازمی قرار دینے سے متعلق بمبئي میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے حکم کو منسوخ کرنے کے لئے سپریم کورٹ کی مداخلت کا مطالبہ کیا۔  ڈاکٹر ظفر محمود نے ایک بیان میں کہا کہ عوامی زمرے کے کسی بھی اسکول میں مخصوص دھرم کے مذہبی عقیدت کی علامت 'سوریہ نمسکار' کو لازمی قرار دینا آئین ہند کی آرٹیکل 25 کے تحت دیئے گئے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ آئین ہند کی آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہریوں کو مکمل آزادی سے اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلی‏غ کرنے کا حق دیا گیا ہے اور بی ایم سی کے حکم سے اس کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق پامال ہونے کی صورت میں شہریوں کی درخواست پر سپریم کورٹ دستور کی آرٹیکل 32 کے تحت مداخلت کرسکتا ہے۔  وزیر اعظم کے دفتر کے سابق افسر بکار خاص اور مسلمانوں کے سماجی احوال پر رپورٹ تیار کرنے والی سچر کمیٹی کے مشیر ڈاکٹر ظفر محمود نے کہا کہ بدقسمتی سے بمبئی ہائي کورٹ نے بی ایم سی کے آرڈر پر حکم امتناع جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ آئین ہند کی آرٹیکل 25 میں شہریوں کو مذہب وعقیدے کی آزادی دی گئي ہے، جبکہ آرٹیکل 28 (1) میں سرکاری فنڈ سے چلنے والے کسی بھی ادارے میں کسی خاص مذہب کی تدریس و تلقین کی ممانعت کی گئی ہے۔

اس آرٹیکل میں واضح طورسے کہا گيا ہے کہ سرکاری منظور شدہ یا سرکاری امداد یافتہ کسی تعلیمی ادارے میں پڑھنے یا پڑھانے والے کسی فرد سے اس ادارے میں ممکنہ طورپر تعلیم دیئے جانے والے کسی خاص مذہب کی مخصوص تعلیمات پر عمل کرنے کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا، یا کسی بھی شخص سے کوئي خاص مذہبی عبادت میں حصہ لینے کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا ہے ، جب تک کہ وہ خود اس کے لئے رضامند نہ ہو۔  انہوں نے کہا کہ بی ایم سی اور ہائي کورٹ کے احکامات آئند ہند کی آرٹیکل 28 اور 25 کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر محمود نے وید اور پران کے نصوص کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سورج کو روحانی مقام دیا گیا ہے، جبکہ قرآن میں سورج اور دیگر فلکیاتی اجسام کو ایک اللہ کی مخلوق قرار دیا گيا ہے جنہيں بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے بنایا گيا ہے، جو کہ اللہ کی تمام مخلوقات میں سب سے افضل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہائي کورٹ کے ڈویژن بنچ نے بی ایم سی کے آرڈر پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ " نام پر مت جائیے۔ یہ صرف ایک ریاضت ہے ، جو انسانی جسم کے مفید ہے"۔  اپنے تبصرے کے آغاز میں ہائی کورٹ نے یہاں تک پوچھا ہے کہ " بی ایم سی نے اگر سوریہ نمسکار کو لازمی قرار دیا ہے ، تو اس میں نقصان کیا ہے؟"۔

ہائي کورٹ کے اس تبصرے پر بحث کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر محمود نے کہا کہ "تو کیا نماز، جو کہ خالق و مالک کو سلام و عقیدت کا نذرانہ پیش کرنے کا ایک طریقہ ہے اور جسمانی ورزیش کے بہتر ریاضت بھی ہے اور اس میں یوگا کی خصوصیات بھی پائی جاتی ہے، اس کو مذہبی دائرے میں اپنایا جاسکتا ہے؟"۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف انفرادی عقیدے اور سورج الوہیت میں اعتقاد رکھنے کا معاملہ ہے۔ کسی بھی شخص کو اپنے عقیدے اور مذہبی جذبے کے برخلاف کسی خاص مذہب کا کلمہ پڑھنے یا مذہبی رسم انجام دینے پر مجبور نہيں کیا جانا چاہئے۔
First published: Oct 09, 2016 12:35 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading