உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    میں میڈیا ٹرائل کا شکار ہوا ہوں ، سرکاری ایجنسیوں کے تمام سوالوں کا جواب دینے کیلئے تیارہوں : ڈاکٹر ذاکر نائک

    ذاکر نائیک ۔ فائل فوٹو

    ذاکر نائیک ۔ فائل فوٹو

    انہوں نے کہا کہ اب تک کسی بھی سرکاری ایجنسی نے نہ تو ان سے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی پوچھ گچھ کی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ تو میڈیا کا ایک طبقہ ہے جو میرے خلاف الزامات لگا رہا ہے‘‘،

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : متنازعہ اسلامی مبلغ ذاکر نائیک نے خود کو میڈیا ٹرائل کا شکار ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہندوستان واپس آکر سرکاری ایجنسیوں کے تمام سوالات کا جواب دینے کے لئے تیار ہیں لیکن وہ یہاں صرف اس لئے نہیں لوٹیں گے کیونکہ میڈیا چاہتی ہے کہ ان سے پوچھ گچھ کی جائے۔ مسٹر نائیک نے آج ’انڈیا ٹوڈے ٹی وی‘کو دیے گئے انٹرویو میں یہ بات کہی۔

      بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاكہ میں حال ہی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کو انجام دینے والوں کے اسلامی مبلغ سے متاثر ہونے کی بات سامنے آنے کے بعد سے ہی تنازعات میں آئے مسٹر نائیک نے اپنے اوپر عائد الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ تو کبھی دہشت گردی کی حمایت کی ہے اور نہ ہی کبھی کریں گے۔ مسٹر نائیک نے مقدس کتاب قرآن کریم کے حوالے سے کہا کہ قرآن کہتا ہے کہ جو کسی بے گناہ کے قتل کرتا ہے وہ پوری انسانیت کا قاتل ہے۔

      ڈھاکہ حملے کے بعد پہلی بار کسی ٹیلی ویژن انٹرویو میں مسٹر نائیک نے خود کو میڈیا ٹرائل کا شکار بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک کسی بھی سرکاری ایجنسی نے نہ تو ان سے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی پوچھ گچھ کی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ تو میڈیا کا ایک طبقہ ہے جو میرے خلاف الزامات لگا رہا ہے‘‘، انہوں نے کہا،’’میں میڈیا کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ ایک بھی ایسی مثال پیش کرے جس میں میں نے دہشت گردی کی حمایت کی ہو‘‘۔

      مسٹرنائیک نے اپنے انٹرویو میں وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ واحد ایسے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے بہت کم عرصے میں کئی مسلم ممالک کا  دورہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یکساں سول کوڈ کے حق میں ہیں بشرطیکہ وہ منصفانہ ہو۔  انہوں نے کہا،’’ایک آبجکٹک پینل ہونا چاہئے اور اعلی ترین قوانین کا انتخاب کیا جانا چاہئے اور میرا خیال ہے کہ اسلامی قوانین سب سے بہتر ہے اور اسلام کی جانب سے میں  پیروی کروں گا‘‘۔

      واضح رہے کہ ڈھاکہ کےایک ریستوران میں اسی مہینے ہوئے دہشت گردانہ حملے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حملے کے بعد تحقیقات میں ایک حملہ آور کا مسٹر نائیک  کی تعلیمات سے متاثر ہونے کی بات سامنے آئی تھی۔ جس کے بعد ان کے خلاف متعدد الزامات عائد کئے گئے تھے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ان کی تقریر انتہائی اشتعال  انگیز ہیں اور وہ دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔

      مسٹڑنائیک کے متنازعہ بیانات کی وجہ سے ہی 2010 میں برطانیہ اور كناڈا میں ان پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ ان پر لگے مختلف الزامات کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر  نائیک نے کہا،’’ڈھاکہ حملے کے بعد بنگلہ دیش کے ایک اخبار نے حملہ آوروں كوحوصلہ افزائی کرنے کا الزام ​​لگانے والی ایک رپورٹ شائع کی تھی اور اس کے بعد ہندوستانی  میڈیا نے بھی یہ رپورٹ شائع کی ۔ تاہم اگلے ہی دن اخبار نے رپورٹ شائع کرنے کے لئے معافی مانگی اس کے بعد اگلے دن کسی بھی اخبار نے یہ رپورٹ شائع نہیں کی‘‘۔

      اسلامی مبلغ نے کہا کہ انہوں نے نہ تو کبھی ہم آہنگی کو نقصان پہونچایا ہے اور نہ ہی کسی بھی کمیونٹی کو حقیر سمجھا ہے۔  مسٹر نائیک نے عراق اور شام میں دہشت گردی کی علامت بن چکے اسلامی اسٹیٹ (آئی ایس) کے نام پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا، "وہ غیر اسلامی ہے اور میں  اس کی مذمت کرتا ہوں۔
      First published: