உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Draupadi Murmu: کون ہیں این ڈی اے کی صدارتی امیدوار دروپدی مرمو؟ جانیے مکمل تفصیلات

    Youtube Video

    اب وہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں پہلی قبائلی خاتون صدر بن سکتی ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ انھیں منتخب کرلیا جائے، کیونکہ اراکین کی بڑی تعداد این ڈی اے کے حق میں ہے۔

    • Share this:
      دروپدی مرمو (Draupadi Murmu) کا نام صدارتی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ جیسے ہی بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے نے منگل کو انہیں 18 جولائی کو ہونے والے آئندہ انتخابات کے لیے اپنے صدارتی امیدوار کے طور پر منتخب کیا، وہ پہلی قبائلی خاتون بن گئیں جنہیں ہندوستان کے اعلیٰ آئینی عہدے کے لیے امیدوار کے طور پر چنا گیا ہے۔

      جب 2015 میں وہ جھارکھنڈ کی گورنر مقرر ہوئیں، وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون بن گئیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ اپنی آبائی ریاست اوڈیشہ سے گورنر بننے والی پہلی قبائلی خاتون بھی بن گئیں۔

      اب وہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں پہلی قبائلی خاتون صدر بن سکتی ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ انھیں منتخب کرلیا جائے، کیونکہ اراکین کی بڑی تعداد این ڈی اے کے حق میں ہے۔

      ایسا لگتا ہے کہ این ڈی اے (NDA) نے قبائلی برادریوں پر توجہ مرکوز کرنے کے اپنے انتخاب کے ساتھ ایک بڑا سیاسی بیانیہ تخلیق کیا ہے، مرمو سنتال نسلی گروہ سے تعلق رکھنے والی ایک تجربہ کار قبائلی رہنما ہیں۔ سنتال جھارکھنڈ میں سب سے بڑا قبیلہ ہے اور یہ آسام، تریپورہ، بہار، چھتیس گڑھ، اڈیشہ اور مغربی بنگال میں بھی موجود ہیں۔

      مرمو 20 جون 1958 کو میور بھنج ضلع کے بیداپوسی گاؤں میں پیدا ہوئی۔ مرمو نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1997 میں بطور کونسلر اور رائرنگ پور شہری ادارہ کے نائب صدر کے طور پر کیا۔ اسی سال وہ اوڈیشہ بی جے پی کے ایس ٹی مورچہ کی نائب صدر مقرر ہوئیں۔

      2000 میں وہ رائرنگ پور کی ایم ایل اے بنیں جب بی جے پی اور بیجو جنتا دل نے مخلوط حکومت بنائی۔ وہ 2000 سے 2004 تک اڈیشہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ اور کامرس کی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) تھیں اور 2002 سے 2004 تک ریاست کے محکمہ مویشی پالن اور 2002 میں ماہی پروری کے محکمے کا چارج بھی سنبھالا۔

      ایک قبائیلی پس منظر سے آتے ہوئے مرمو نے ملک کے سب سے دور دراز اور پسماندہ اضلاع میں غربت اور ذاتی المیوں سے لڑتے ہوئے سیاسی موجودگی میں اضافہ کیا۔ انھوں نے بھونیشور کے رام دیوی خواتین کالج سے بی اے کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کی۔

      ان کا بھرپور سیاسی اور انتظامی تجربہ ان عہدوں سے ظاہر ہوتا ہے جو وہ زعفرانی پارٹی کے ساتھ رہیں۔ سال 2002 تا 2009 تک وہ بی جے پی کے ایس ٹی مورچہ کی قومی ایگزیکٹو ممبر تھیں۔ ایک بار پھر 2004 میں وہ رائرنگ پور ایم ایل اے بنیں اور پھر 2006 سے 2009 تک بی جے پی کے ایس ٹی مورچہ کی ریاستی صدر مقرر ہوئیں۔

      یہ بھی پڑھیں:مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق قانون سے چھیڑچھاڑ انتہائی خطرناک: مولانا ارشد مدنی

      ان کی شاندار خدمات کے انعام کے طور پر انہیں قانون ساز اسمبلی نے 2007 میں 'نیلکانتھا ایوارڈ برائے بہترین ایم ایل اے' سے نوازا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:کیاآپ ہندوستانی فضاؤں میں اڑناچاہتےہیں؟ ہوائی اڈے پرپہنچنےسےپہلےایئرسوودھابھرنامت بھولیں!

      وہ 1979 سے 1983 تک اوڈیشہ حکومت کے محکمہ آبپاشی اور بجلی میں جونیئر اسسٹنٹ کے عہدے پر ایک سرکاری ملازم کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ نچلی سطح کی کارکن کے طور پر، اس نے رائرنگ پور میں شری اوروبندو انٹیگرل ایجوکیشن سینٹر میں بغیر کسی تنخواہ کے پڑھایا بھی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: